جدید تزویراتی دور میں جنگیں صرف بارود اور جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کا ایک خوفناک محاذ ذرائع ابلاغ، نفسیاتی مہمات اور جھوٹے بیانیوں کی تشکیل پر لڑا جا رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران لشکر طیبہ کے ایک کمانڈر کو ہلاک کرنے اور بعد ازاں اسے پاک فوج کے اسپیشل سروسز گروپ کا ریٹائرڈ اہلکار قرار دینے کا دعویٰ اسی زہریلی روش کا تسلسل تھا۔ نئی دہلی کا تیار کردہ یہ خود ساختہ اسکرپٹ اس وقت ریت کی دیوار ثابت ہوا جب مبینہ طور پر ہلاک قرار دیا گیا سابق فوجی محمد آصف خود مکمل صحت و سلامتی کے ساتھ راولپنڈی میں میڈیا کیمروں کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ یہ واقعہ محض ایک انفرادی یا اتفاقی غلطی نہیں بلکہ ایک ایسی منظم اطلاعاتی جارحیت کا کھلا ثبوت ہے جو زمینی حقائق اور ناقابلِ تردید شواہد کے سامنے چند ہی گھنٹوں میں ریزہ ریزہ ہو گئی۔
اس پورے معاملے کی بناوٹ کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ بھارتی سکیورٹی اداروں اور خفیہ مشینری نے ایک باقاعدہ فریب کارانہ جال بچھایا تھا۔ ریٹائرڈ حوالدار محمد آصف کا میڈیا کے روبرو یہ انکشاف کہ انہیں گزشتہ کچھ عرصے سے نامعلوم بھارتی نمبروں سے مشکوک کالز آ رہی تھیں اور ان کے کوائف حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ شناخت چرانے اور ایک بے گناہ شہری کے ڈیٹا کو دہشت گردی کی کہانیوں میں فٹ کرنے کی پیشگی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ جب ایک شخص اپنے خاندان کے ساتھ راولپنڈی میں پرامن اور معمول کی شہری زندگی گزار رہا تھا، ٹھیک اسی وقت سرحد پار اس کی فرضی موت کا ڈراما رچا کر اسے بین الاقوامی سطح پر عسکری دراندازی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔
تاریخ شاہد ہے کہ نئی دہلی جب بھی مقبوضہ وادی میں عوامی مزاحمت، انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر عالمی تنقید یا اپنے اندرونی سیاسی بحرانوں میں گھِرتی ہے، تو وہ فوری طور پر توجہ ہٹانے کے لیے فرسودہ ‘پاکستان کارڈ’ کا سہارا لیتی ہے۔ مقامی سطح پر انتہا پسند اور قوم پرستانہ ووٹر کو مطمئن کرنے کے لیے سکیورٹی ایجنسیوں کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا اور ہر اندرونی بغاوت کا ملبہ سرحد پار ڈالنا ایک آسان ترین نسخہ بنا لیا گیا ہے۔ ایسی خود ساختہ فالس فلیگ کارروائیوں کا بنیادی مقصد دنیا کے سامنے خود کو مظلوم اور پاکستان کو جارح ثابت کرنا ہوتا ہے، مگر تحقیقات سے مسلسل فرار اور شواہد کی عدم موجودگی نے ہمیشہ اس طرزِ عمل کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کیا ہے۔
اس مذموم کھیل میں بھارتی میڈیا کا ایک بڑا حصہ، جسے گودی میڈیا کہا جاتا ہے، صحافتی اقدار کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ریاستی پروپیگنڈا مشین کے ہراول دستے کے طور پر سرگرم نظر آتا ہے۔ صحافت کے بنیادی اصول یعنی غیر جانبدارانہ تحقیق، تصدیق اور حقائق کی جانچ کو مکمل طور پر بالائے طاق رکھ کر بغیر کسی فرانزک شواہد کے سنسنی خیز سرخیاں لگائی گئیں اور جنگی جنون کو ہوا دی گئی۔ جب ریاست کے ففتھ جنریشن ہتھیار کے طور پر کام کرنے والے ادارے سچائی کے بجائے فرضی کہانیاں بیچنے لگیں تو ان کی صحافتی ساکھ نہ صرف اپنے ملک بلکہ عالمی سطح پر بھی ناقابلِ تلافی حد تک تباہ ہو جاتی ہے۔
ایک زندہ انسان کو ہلاک قرار دے کر اسے دہشت گرد کمانڈر ثابت کرنے کی یہ کوشش نئی دہلی کے لیے ایک بہت بڑی تزویراتی، اخلاقی اور سفارتی ہزیمت ہے۔ اس سنگین ناکامی نے عالمی برادری پر واضح کر دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد مقابلوں اور آپریشنز کی آڑ میں پیش کی جانے والی کہانیاں کس قدر مشکوک اور بے بنیاد ہوتی ہیں۔ اب مستقبل میں بھارت کے کسی بھی سکیورٹی دعوے کو دنیا شک کی نگاہ سے دیکھے گی، کیونکہ جب تک ریاستی ادارے شواہد کے بجائے الزامات اور پروپیگنڈے پر انحصار کریں گے، ان کا انجام اسی طرح کی رسوائی اور جگ ہنسائی پر منتج ہوگا۔
سابق حوالدار محمد آصف کا زندہ سامنے آنا صرف ایک خبر نہیں بلکہ بھارت کے گھڑے ہوئے بیانیوں کے تابوت میں ایک فیصلہ کن کیل ہے۔ عارضی سیاسی مقاصد اور سستی شہرت کے لیے گھڑی جانے والی کہانیاں کبھی پائیدار نہیں ہو سکتیں اور سچ کے سامنے آتے ہی دم توڑ دیتی ہیں۔ اگر بھارت خطے میں سنجیدہ سفارت کاری اور اپنی کوئی ساکھ باقی رکھنا چاہتا ہے تو اسے الزام تراشی، فالس فلیگ مہمات اور جھوٹے بیانیوں کی فرسودہ روش ترک کر کے زمینی حقائق کا سامنا کرنا ہوگا، ورنہ ہر نیا من گھڑت دعویٰ عالمی سطح پر اس کے اپنے ہی کردار کو مزید مشکوک بناتا رہے گا۔