پشاور میں حکام نے گورنر فیصل کریم کنڈی کے سیکیورٹی اجلاس پر وضاحت جاری کر دی۔ ذرائع کے مطابق امن و امان پر اجلاس طلب کرنا صوبائی حکومت کے اختیارات میں مداخلت نہیں۔
یہ اقدام مکمل طور پر معمول کے آئینی و انتظامی امور کا حصہ ہے۔ اس اجلاس کا مقصد حکومت چلانا نہیں بلکہ سیکیورٹی صورتحال سے آگاہی حاصل کرنا ہے۔
آرٹیکل 131 کے تحت
آئین پاکستان کا آرٹیکل 131 گورنر کے کردار کو واضح کرتا ہے۔ اس شق کے تحت صوبائی انتظامیہ اور امن و امان سے متعلق معلومات گورنر تک پہنچانا لازمی ہے۔
گورنر کو انٹیلی جنس رپورٹس اور سیکیورٹی معاملات سے باخبر رکھا جاتا ہے۔ لہٰذا متعلقہ حکام سے بریفنگ لینا وزیر اعلیٰ کے اختیارات پر اثر انداز نہیں ہوتا۔
ماضی کے اجلاسوں کی نظیر
صوبے میں گورنر ہاؤس کی سطح پر سیکیورٹی اجلاسوں کی ماضی میں بھی نظیریں موجود ہیں۔ سابق گورنر شاہ فرمان کے دور میں بھی ایسے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔
اس وقت کے وزیر اعلیٰ محمود خان اور کور کمانڈر پشاور نے ان اجلاسوں میں شرکت کی تھی۔ آئی جی پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام بھی ان بریفنگز کا حصہ رہے ہیں۔
حکام کے مطابق موجودہ اجلاس کو بھی اسی آئینی تناظر میں دیکھنا ضروری ہے تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔
دیکھیے: پکتیکا فضائی حملے: حافظ گل بہادر گروپ نشانہ بنا، مقامی شہری کا دعویٰ