بعض مناظر چند سیکنڈ کے ہوتے ہیں مگر دیر تک ذہن میں اٹکے رہتے ہیں۔ بلوچستان اسمبلی کے فلور پر ایک رکن کا پاکستانی پاسپورٹ زمین پر دے مارنا ایسا ہی منظر ہے۔ کیمرے نے اسے محفوظ کیا اور سوشل میڈیا نے آگے بڑھا دیا۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس واقعے سے کیا سیکھتے ہیں۔ جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر دیکھیں تو یہ معاملہ ایک شخص کی بدمزاجی سے کہیں بڑا ہے۔
پاسپورٹ بظاہر چند صفحات کا کتابچہ ہے، مگر دنیا اسے ریاست کے دستخط کے طور پر دیکھتی ہے۔ امیگریشن کاؤنٹر پر کھڑا شہری اپنے نام کے ساتھ اپنے ملک کا اعتبار بھی پیش کرتا ہے۔ اسی لیے قومی علامات کے ساتھ سلوک کو محض ذاتی غصے کا اظہار نہیں سمجھا جاتا۔ بلوچستان اسمبلی کے فلور پر اپوزیشن رکن زاہد ریکی کا کیمروں کے سامنے پاکستانی پاسپورٹ زمین پر دے مارنا اسی لیے محض ایک احتجاجی لمحہ نہیں، ایک سنجیدہ سوال بن گیا۔
پرچم، قومی ترانہ اور پاسپورٹ وہ مشترکہ سرمایہ ہیں جن پر مختلف سوچ رکھنے والے بھی ایک نقطے پر آ کھڑے ہوتے ہیں۔ جو شخص ایوان میں بیٹھ کر ان کی بے حرمتی کرتا ہے، وہ اسی مشترکہ زمین کو کمزور کرتا ہے جس پر پوری سیاست کھڑی ہے۔
اور یہ ذمہ داری ایک عام شہری کے مقابلے میں منتخب رکن پر کہیں زیادہ عائد ہوتی ہے۔ عام آدمی کے پاس اپنی بات پہنچانے کے راستے محدود ہوتے ہیں، جبکہ رکنِ اسمبلی کے پاس استحقاق بھی ہے اور پلیٹ فارم بھی۔ وہ تحریکِ استحقاق لا سکتا ہے، توجہ دلاؤ نوٹس دے سکتا ہے، متعلقہ افسر کو کمیٹی میں طلب کروا سکتا ہے اور ایوان میں کھل کر اپنا مقدمہ رکھ سکتا ہے۔ جس کے پاس اتنے راستے ہوں، اس کا علامتی توڑ پھوڑ کی طرف جانا مجبوری نہیں، انتخاب ہے، اور انتخاب ہی کا حساب لیا جاتا ہے۔
ایوان اور عہدے کی ساکھ
اس سے بھی اہم نکتہ یہ ہے کہ ایوان کی طاقت اس کی سنجیدگی میں ہے۔ جب فلور پر ڈرامائی مظاہرے معمول بن جائیں تو بحث کی جگہ تماشا لے لیتا ہے۔ پھر اصل مسائل، یعنی بجٹ، امن و امان، تعلیم اور صحت، سرخیوں سے باہر رہ جاتے ہیں اور ایک وائرل لمحہ سب کچھ نگل جاتا ہے۔
یہ واقعہ جس پس منظر میں ہوا، وہ اسے مزید حساس بناتا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی اہلکار آئے دن جانوں کے نذرانے دے رہے ہیں۔ ان کے گھروں میں غم کے سائے ہیں اور ان کی قربانیاں اسی ریاست کی بقا کے لیے ہیں جس کی علامت زمین پر پھینکی گئی۔ ایسے ماحول میں منتخب نمائندے سے کم از کم یہ توقع بنتی ہے کہ وہ علامات کے معاملے میں احتیاط برتے۔ شکایت جتنی بھی جائز ہو، اس کے اظہار کا ایسا طریقہ جو شہدا کے لواحقین کو چبھے، سیاسی بصیرت کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
بعد میں معذرت کی اطلاعات سامنے آئیں۔ معذرت بلاشبہ ایک مثبت قدم ہے اور اسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔ مگر سیاسی اخلاقیات میں معذرت اور ازالے کا فرق ہے۔ معذرت جذبات کو ٹھنڈا کرتی ہے، ازالہ مثال قائم کرتا ہے۔ اگر ہر ایسے واقعے کا انجام چند رسمی جملوں پر ہو تو اگلا شخص یہ حساب لگا لے گا کہ فائدہ زیادہ ہے اور قیمت کم۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ایوان اپنے ضابطۂ اخلاق کے تحت واضح فیصلہ کرے اور اسے عام بھی کرے۔
آگے کا راستہ
اس پورے معاملے سے چند عملی نتائج نکلتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ اسمبلی کی استحقاق کمیٹی اس معاملے کو شفاف انداز میں دیکھے اور اپنا فیصلہ عوام کے سامنے رکھے۔ جب ایوان اپنے رکن کے طرزِ عمل پر کھلا اور بے لاگ فیصلہ دیتا ہے تو اس سے نہ صرف انصاف کا تقاضا پورا ہوتا ہے بلکہ آئندہ کے لیے ایک واضح مثال بھی قائم ہوتی ہے۔ خاموشی یا رسمی کارروائی سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ایوان اپنے ہی لوگوں کا احتساب کرنے سے کتراتا ہے۔
اس فیصلے کو پائیدار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ایوان کے ضابطۂ کار میں قومی علامات کے احترام سے متعلق واضح شقیں شامل کی جائیں۔ جب تک اصول تحریری اور غیر مبہم نہ ہوں، ہر واقعے کے بعد بحث اسی پر اٹک جاتی ہے کہ کیا ہوا اور کیا ہونا چاہیے تھا۔ واضح ضوابط ابہام کی گنجائش ختم کرتے ہیں اور فیصلہ کرنے والوں کے ہاتھ بھی مضبوط کرتے ہیں۔
اور اس سب کے ساتھ سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانا ہوگی۔ انہیں اپنے ارکان کی تربیت میں احتجاج کے جائز اور باوقار طریقوں پر زور دینا چاہیے۔ پارٹی قیادت کی ذمہ داری صرف ٹکٹ دینے اور ووٹ مانگنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کے نمائندے ایوان کے آداب اور ریاستی علامات کے تقدس کو سمجھیں اور ان کا لحاظ رکھیں۔
آخری بات
قومی علامات کا احترام کسی حکومت یا جماعت کا احسان نہیں، یہ ہر شہری اور خاص طور پر ہر نمائندے کا فرض ہے۔ اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، مگر اختلاف کا سلیقہ بھی اسی حسن کا حصہ ہے۔ جس دن ہم نے یہ فرق مان لیا کہ ریاست پر تنقید ایک حق ہے اور ریاست کی علامات کی بے حرمتی ایک حد، اس دن ہماری سیاست کا معیار بلند ہو جائے گا۔
پاسپورٹ تو اٹھا لیا جائے گا۔ اصل چیز وہ اعتماد ہے جو اس کے ساتھ زمین پر گرا ہے، اور اسے اٹھانے کے لیے ایوان کو فیصلوں کی ضرورت ہے، بیانات کی نہیں۔