ممتاز عالمِ دین مولانا محمد ادریس ترنگزئی چارسدہ میں شہید؛ ریاستِ پاکستان کی حمایت اور آرمی چیف کی تائید پر المرصاد کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد قاتلانہ حملہ۔
طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی افغان لڑکی کی آپ بیتی؛ دہشت گردی کے زخموں سے لے کر تعلیمی پابندیوں تک، افغان خواتین کے مخدوش مستقبل پر ایک دردناک رپورٹ۔
طالبان حکومت 2021 سے ایک ذمہ دار ریاستی کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے، جہاں تحریکِ طالبان پاکستان جیسے گروہوں کو تحفظ فراہم کرنے کی نظریاتی ہٹ دھرمی نے افغان عوام کو شدید معاشی تباہی اور عالمی تنہائی کا شکار کر دیا ہے۔
بھارتی کمپنی ‘آدتیہ برلا گلوبل ٹریڈنگ’ پر جعل سازی کے ذریعے ایران سے ممنوعہ یوریا درآمد کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس نے مودی سرکار کو عالمی سطح پر شدید سفارتی دباؤ اور سبکی سے دوچار کر دیا ہے۔
پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی سے منسوب امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازع میں روسی ثالثی کی خبریں بے بنیاد قرار؛ سفیر نے متعلقہ صحافی سے ملاقات کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹی رپورٹنگ قرار دے دیا۔
دستورِ پاکستان اور شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں فتنہ خوارج کی پُرتشدد کاروائیاں جہاد کے مقدس تصور کے منافی اور صریحاً ‘فساد فی الارض’ ہیں۔ متقدمین و متاخرین فقہائے امت کے فتاویٰ اور ‘پیغامِ پاکستان’ کے تاریخی اعلامیے کی رو سے ریاست کے خلاف مسلح بغاوت شرعاً حرام اور ناجائز ہے، کیونکہ جہاد کا شرعی اختیار کسی فرد یا گروہ کے بجائے فقط مسلم ریاست کا منصب ہے۔
نیشنل پریس کلب کے اراکین نے صدر اور انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ مطیع اللہ جان کی جانب سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے پر ان کی کلب کی رکنیت فی الفور منسوخ کی جائے اور انہیں پریس کلب سے بے دخل کیا جائے۔
بھارتی حکومت نے پہلگام واقعے کو ایک “فالس فلیگ” کے طور پر استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے اور اسے دہشت گردی کے بیانیے میں گھیرنے کی کوشش کی، تاہم یہ حکمت عملی مئی کے “معرکہِ حق” اور پاکستان کی مؤثر خارجہ پالیسی کے باعث ناکام ثابت ہوئی۔
جب عالمی برادری پاکستان کی سفارتی فتوحات کا اعتراف کر رہی ہے، تب جیو نیوز اور اس سے وابستہ بعض عناصر دشمن ملک کی پذیرائی اور قومی مفاد کو نقصان پہنچانے کی مہم میں مصروف ہیں
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اسرائیل کو انسانیت کے لیے ’کینسر‘ قرار دے کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ دفاعی ماہرین نے اسے پاکستان کی ایک سوچی سمجھی سفارتی حکمت عملی اور نپا تلا پالیسی بیان قرار دیا ہے، جبکہ اے آئی پلیٹ فارمز کی جانب سے اس بیان کی سنسر شپ نے صیہونی خوف کو مزید بے نقاب کر دیا ہے