غزہ: غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی جارحیت کو 7 اکتوبر 2026 کو 3 سال مکمل ہو گئے۔ مسلسل بمباری کے نتیجے میں تباہی کی نئی تاریخ رقم ہوئی ہے، جبکہ بحران مقبوضہ مغربی کنارے تک پھیل چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک کے مطابق، تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے اب بھی خواتین اور بچوں کی لاشیں مل رہی ہیں۔ فلسطینی سول ڈیفنس نے نومبر 2025 سے اب تک 630 لاشیں نکالیں، جبکہ 8 ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، خطے میں 17 لاکھ افراد بے گھر ہیں اور صحت کا نظام مکمل تباہ ہو چکا ہے۔ سال 2023 سے اب تک طبی عملے پر 920 حملے ہوئے، جن میں 1,700 سے زائد ہیلتھ ورکرز شہید ہو گئے۔ پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کے باعث متعدی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی یہودی بستیوں کی غیر قانونی توسیع اور آبادکاروں کے تشدد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سال 2026 میں تقریباً 3,800 فلسطینی جبری نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جن میں نصف تعداد معصوم بچوں کی ہے۔
عالمی عدالت انصاف کی جانب سے اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے باوجود بستیوں کی تعمیر جاری ہے۔ ادھر پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ 1967 کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان اب تک 2,827 ٹن امدادی سامان بھی غزہ بھجوا چکا ہے۔