بھارت: نئی دہلی کے تاریخی مقام جنتر منتر پر ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ہونے والے بڑے احتجاج سے قبل بھارتی پولیس نے سخت کارروائی کی ہے۔ معروف یوٹیوبر دھروو راٹھی، کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے، اور دیگر رہنماؤں سوروو داس اور آشوتوش رانکا کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
احتجاج کی منتظم جماعت کاکروچ جنتا پارٹی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے فوری استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ مظاہرین اور اپوزیشن رہنماؤں کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں بڑی تبدیلیوں کے ذریعے حکمران جماعت بی جے پی کو انتخابی فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق نئی دہلی پولیس نے یوٹیوبر دھروو راٹھی کو ان کی گروگرام میں واقع رہائش گاہ سے حراست میں لیا جب انہوں نے دہلی جانے سے انکار کرنے کے انتظامی احکامات کو ماننے سے انکار کر دیا۔ دوسری جانب ابھجیت دیپکے اور دیگر رہنماؤں کو نئی دہلی پہنچتے ہی ہوائی اڈے پر تحویل میں لے لیا گیا۔
احتجاج کی شدت کو دیکھتے ہوئے دارالحکومت میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور ہر طرف لاک ڈاؤن کی صورتحال ہے۔ شہر کے اہم میٹرو اسٹیشنز، مارکیٹس اور انٹرنیٹ سروسز کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ ٹرینوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی آمدورفت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔
ووٹر فہرستوں سے تقریباً 13 کروڑ نام خارج کیے جانے کی خبر سامنے آنے کے بعد بھارتی سیاست میں شدید گرمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ووٹرز کے اخراج سے حالیہ اور آنے والے انتخابات کے نتائج پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
الیکشن کمیشن اور حکمران جماعت بی جے پی نے تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی کا عمل قانونی ضوابط کے مطابق جاری ہے اور متاثرہ شہری اپنے نام کے اندراج کے لیے دوبارہ درخواست دے سکتے ہیں۔