سیاست جب عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے صرف ایک خاندان، ایک جماعت یا ایک کرسی کے گرد گھومنے لگے، تو ریاستیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی پچھلے ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط حکومت نے اس تلخ حقیقت کو اس انداز میں سچ ثابت کیا ہے کہ آج پورا صوبہ ایک خوفناک سیاسی اور انتظامی دلدل میں دھنس چکا ہے۔
صوبے کے عوام بدترین بدامنی، معاشی تباہی اور بنیادی سہولتوں سے محرومی کی چکی میں پس رہے ہیں، لیکن پی ٹی آئی کی قیادت کی ترجیحات کا محور صرف اور صرف اپنی کرسی بچانا، ذاتی مفادات کا تحفظ اور اسلام آباد کے خلاف ہر وقت محاذ آرائی جاری رکھنا ہے۔
سیاسی تماشوں کا فلاپ شو
اس کی تازہ ترین مثال حالیہ دنوں میں دیکھنے کو ملی جب صوبائی حکومت کی جانب سے طاقت کا زعم دکھاتے ہوئے ایک بڑے لانگ مارچ اور دھرنے کا ڈرامہ رچایا گیا۔ حکمرانوں کو یہ غلط فہمی تھی کہ وہ ہمیشہ کی طرح اپنے پرانے جذباتی نعروں سے عوام کو سڑکوں پر لے آئیں گے۔ لیکن زمینی حقائق نے اس سیاسی ڈھونگ کی دھجیاں ارا دیں۔ لانگ مارچ کے راستے اور پنڈال سنسان پڑے رہے، اور عوام نے کھلم کھلا اس تماشے سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔
خیبر پختونخوا کا باشعور شہری اب سمجھ چکا ہے کہ یہ مارچز اور دھرنے صوبے کے حقوق کے لیے نہیں، بلکہ ان حکمرانوں کی ذاتی کرسیوں کو بچانے کی ناکام کوششیں ہیں۔ عوام بخوبی جانتے ہیں کہ جب بھی پی ٹی آئی پر کوئی سیاسی بحران آتا ہے، وہ صوبائی وسائل اور سرکاری مشینری کو اپنے ذاتی مفادات اور احتجاجی سیاست کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
حکومتی مجرمانہ غفلت
آج خیبر پختونخوا کے کونے کونے میں دہشت گردی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ پولیس اہلکاروں، سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ صوبے میں روزانہ کی بنیاد پر امن و امان کی دھجیاں اڑ رہی ہیں، مگر حیرت اور ڈوب مرنے کا مقام یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو ان جنازوں پر رونے کے بجائے صرف اس بات کی فکر ہے کہ ان کی حکومت کیسے سلامت رہے۔
جب بھی صوبے میں امن بحال کرنے یا دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کسی سخت انتظامی قدم، آپریشن یا ایمرجنسی نفاذ کی بات آتی ہے، تو یہ جماعت فوراً اس کی مخالفت میں کھڑی ہو جاتی ہے۔ ایمرجنسی کی مخالفت کو حکومتی نااہلیوں، گورننس کے بحران اور کرپشن سے توجہ ہٹانے کا ڈھال بنایا جا رہا ہے۔ اس سے بڑھ کر مجرمانہ غفلت اور کیا ہوگی کہ سیاسی مفادات کو معصوم عوام کی جانوں پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ کیا خیبر پختونخوا کے لوگوں کا خون اتنا سستا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے سیاسی ڈراموں کی بھینٹ چڑھتا رہے؟
اداروں سے محاذ آرائی
پی ٹی آئی کی سیاست کا ایک اور تاریک پہلو وفاق اور ریاستی اداروں کے ساتھ بلاجواز محاذ آرائی ہے۔ صوبے کے کروڑوں روپے جو عوام کی تعلیم، صحت اور ترقی پر خرچ ہونے چاہئیں تھے، وہ اسلام آباد پر دھاوا بولنے، جلوسوں کے انتظامات اور میڈیا پراپیگنڈا پر لٹائے جا رہے ہیں۔ صوبے کے ہسپتالوں میں ادویات نہیں ہیں، تعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں، نوجوان بے روزگار ہیں، لیکن وزیراعلیٰ ہاؤس اور صوبائی کابینہ کی پوری توجہ صرف اس بات پر ہے کہ کس طرح اپنے سیاسی آقا کو خوش کیا جائے اور صوبائی وسائل کو پارٹی مفادات کے لیے استعمال کیا جائے۔
پہلے امن، پھر سیاست
اب خیبر پختونخوا کے عوام کو مزید خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ وقت آ گیا ہے کہ اس منافقانہ اور خود غرض سیاست کا حساب مانگا جائے۔ دہشت گردی پر اب مزید کوئی مصلحت، کوئی رعایت اور کوئی سہولت کاری برداشت نہیں کی جانی چاہیے۔
اصول بالکل واضح ہونا چاہیے: پہلے امن، پھر سیاست؛ پہلے عوام کی جان، پھر کسی کی کرسی! خیبر پختونخوا مزید ان سیاسی شوبازیوں کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتا۔ پی ٹی آئی کی حکومت کو یہ صاف سن لینا چاہیے کہ اب کھوکھلے نعروں، جھوٹے دعوؤں اور سیاسی ڈراموں کا دور ختم ہو چکا ہے۔ عوام اپنی بربادی کا ایک ایک لمحے کا حساب مانگ رہے ہیں، اور اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو تاریخ اس بے حسی اور عوامی دشمنی پر انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔