"> محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پانچویں برسی
بلوچستان کے ضلع بارکھان میں سی ٹی ڈی آپریشن کے دوران فتنۃ الہندوستان کے 10 دہشت گرد ہلاک اور 2 اہلکار زخمی ہوئے۔ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خاتمے کا عزم دہرایا۔

October 10, 2026

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس 11 اکتوبر کو متوقع ہے۔

October 10, 2026

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی پانچویں برسی پر ان کی سائنسی خدمات اور قومی اعزازات کو یاد کیا جا رہا ہے۔

October 10, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں طالبہ لائبہ اعجاز کی خودکشی کا نوٹس لیتے ہوئے مبینہ فراڈ میں ملوث ملزم کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا۔

October 10, 2026

وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی آج ملاقات متوقع ہے، جس میں خیبر پختونخوا کی صورت حال اور سیاسی تناؤ کم کرنے کے امکانات پر مشاورت ہوگی۔

October 10, 2026

خیبر پختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مسترد کر دیا۔ عوام نے ثابت کر دیا کہ انہیں سیاسی تماشے نہیں، بلکہ امن اور ترقی چاہیے۔

October 10, 2026

کہوٹہ سے چاغی تک: محسنِ پاکستان کا تاریخی کردار

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی پانچویں برسی پر ان کی سائنسی خدمات اور قومی اعزازات کو یاد کیا جا رہا ہے۔
محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان

جس ہیرو نے ہر طوفان سے ٹکرا کر پاکستان کو ناقابلِ تسخیر ایٹمی طاقت بنایا، آج اس عظیم محسن کو بچھڑے 5 برس بیت گئے۔ کہوٹہ سے چاغی تک، قوم کا ہر دل اپنے اس سچے ہیرو کی بے مثال جدوجہد کو سلام پیش کرتا ہے۔

October 10, 2026

دس اکتوبر 2021 کی صبح اسلام آباد میں 85 برس کی عمر میں وہ شخص دنیا سے رخصت ہوا جسے پاکستان میں محسنِ پاکستان کہا جاتا ہے۔ آج ان کی پانچویں برسی ہے۔ یہ موقع محض عقیدت کے اظہار کا نہیں بلکہ اس سوال پر غور کا بھی ہے کہ ایک شخص کی خدمات نے قوم کی تاریخ کو کس طرح بدلا، اور آج ہم ان خدمات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس سوال کا جواب ان کی زندگی کے سفر میں چھپا ہے۔

یہ سفر یکم اپریل 1936ء کو بھوپال سے شروع ہوا۔ 1952ء میں وہ ہجرت کر کے پاکستان آئے، کراچی میں بلدیاتی ادارے میں ملازمت کی، اور 1961ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے مغربی جرمنی روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے دھات کاری (میٹالرجی) کی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں وہ بیلجیم کی لوون یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے پروگرام سے منسلک ہوئے۔ یہاں ایک بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ وہ بنیادی طور پر میٹالرجی کے ماہر تھے، اور یہی مہارت آگے چل کر یورینیم افزودگی کے لیے درکار تیز رفتار سینٹری فیوج کی تیاری میں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔

اسی دوران پاکستان ایک نازک تاریخی موڑ سے گزر رہا تھا۔ 1971ء کی جنگ اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد مئی 1974ء میں بھارت نے ایٹمی دھماکا کیا، تو ملک کی سلامتی کے بارے میں فکر بہت بڑھ گئی۔ ان دنوں ڈاکٹر خان ہالینڈ میں یورینکو سے وابستہ تھے، جہاں انہیں سینٹری فیوج ٹیکنالوجی کا گہرا علم حاصل ہوا۔ 1975ء میں وہ وطن واپس آئے، اور اگلے ہی برس کہوٹہ میں یورینیم افزودگی کی لیبارٹری قائم ہوئی، جو 1981ء میں خان ریسرچ لیبارٹریز کہلائی۔ تقریباً پچیس برس انہوں نے اس ادارے کی قیادت کی۔ پابندیوں، سفارتی دباؤ اور محدود وسائل کے ماحول میں ایک ترقی پذیر ملک کا افزودگی کی صلاحیت حاصل کر لینا بلاشبہ غیر معمولی کارنامہ تھا۔

اسی کامیابی کی وجہ سے عوامی حلقوں میں انہیں ایٹم بم کا خالق کہا جاتا ہے۔ تاہم تاریخ کی تصویر اجتماعی کاوش کی ہے۔ ہتھیار کی ڈیزائننگ اور تجربات کی ذمہ داری بنیادی طور پر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کے پاس تھی، جس کے سربراہ 1972ء سے 1991ء تک منیر احمد خان رہے۔ مئی 1998ء کے چاغی تجربات ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی ٹیم نے کیے، جبکہ کے آر ایل کا اہم حصہ افزودہ یورینیم کی فراہمی تھا۔ خود ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے ڈاکٹر خان کی وفات پر انہیں قومی اثاثہ قرار دیا۔ لہٰذا انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ایٹمی پروگرام کو سائنسدانوں، انجینئروں اور قیادت کی مشترکہ محنت مانا جائے، جس میں ڈاکٹر خان نمایاں تھے۔

ان خدمات کا اعتراف ریاستی سطح پر بھی ہوا۔ وہ واحد پاکستانی ہیں جنہیں نشانِ امتیاز دو مرتبہ، 1996ء اور 1999ء میں، عطا کیا گیا، جبکہ ہلالِ امتیاز بھی انہیں ملا۔ ایٹمی پروگرام سے ہٹ کر بھی ان کا کردار نمایاں رہا۔ انہوں نے صحت، تعلیم اور سائنسی تحقیق کے کئی اداروں کے قیام میں حصہ لیا، اور جامعہ کراچی کا خان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ انہی کے نام سے منسوب ہے۔

زندگی کے سفر میں کچھ نشیب و فراز بھی آئے۔ 2004ء میں بین الاقوامی سطح پر ان کے بارے میں الزامات سامنے آئے، جس پر انہوں نے ایک بیان دیا اور انہیں معافی دے دی گئی۔ بعد کے برسوں میں ان کی نقل و حرکت کے حوالے سے سیکیورٹی انتظامات برقرار رہے، اور 2009ء میں عدالت نے انہیں آزاد شہری قرار دیا۔ ان تمام مراحل کے باوجود پاکستان میں ان کی مقبولیت اور عوامی محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔

اس محبت کی وجہ سمجھنا مشکل نہیں۔ ان کا سب سے بڑا حوالہ وہ احساسِ تحفظ ہے جو 1998ء کے بعد پیدا ہوا۔ ایک بڑے ہمسائے کے مقابل دفاعی توازن قائم ہوا، اور جنوبی ایشیا میں کشیدگی کے ہر موقع پر دونوں طرف یہ ادراک رہا کہ جنگ کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔ یہ اثر خطے سے آگے بھی گیا۔ پاکستان آج دنیا کا واحد مسلم اکثریتی ایٹمی ملک ہے، اور یہ حیثیت مسلم دنیا میں اس کا وزن بڑھاتی ہے۔ ماضی قریب میں سعودی عرب کے ساتھ ریاض میں ہونے والا اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ اسی اعتماد کی مثال سمجھا گیا۔ پاکستانی وزیرِ دفاع کے مطابق ایٹمی ہتھیار اس معاہدے کا حصہ نہیں، مگر ایسے معاہدے کے پیچھے وہی اسٹریٹجک طاقت کھڑی ہے جس کی بنیاد رکھنے والوں میں ڈاکٹر خان کا نام نمایاں ہے۔

اگست 2021 میں وہ کورونا میں مبتلا ہوئے اور 10 اکتوبر کو انتقال کر گئے۔ حکومت نے ریاستی اعزاز کے ساتھ جنازے کا اعلان کیا، فیصل مسجد میں نمازِ جنازہ ادا ہوئی جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے، اور ملک کے کئی شہروں میں غائبانہ نمازِ جنازہ بھی پڑھی گئی۔

اس پورے سفر کو سامنے رکھیں تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایک ایسے سائنسدان کے طور پر سامنے آتے ہیں جنہوں نے غیر معمولی صلاحیت اور عزم سے پاکستان کی دفاعی طاقت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سائنس، تعلیم اور تحقیق میں سرمایہ کاری ہی کسی قوم کی خودمختاری کی اصل ضمانت ہے۔ پانچ برس بعد ان کی یاد کا سب سے باوقار طریقہ یہ ہے کہ ہم ان کی خدمات کو اداروں کی مشترکہ محنت کے تناظر میں سمجھیں، اور نئی نسل کو سائنس اور تحقیق کی طرف راغب کریں تاکہ ملک کا دفاع اور ترقی مضبوط بنیادوں پر قائم رہے۔

متعلقہ مضامین

بلوچستان کے ضلع بارکھان میں سی ٹی ڈی آپریشن کے دوران فتنۃ الہندوستان کے 10 دہشت گرد ہلاک اور 2 اہلکار زخمی ہوئے۔ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خاتمے کا عزم دہرایا۔

October 10, 2026

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس 11 اکتوبر کو متوقع ہے۔

October 10, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں طالبہ لائبہ اعجاز کی خودکشی کا نوٹس لیتے ہوئے مبینہ فراڈ میں ملوث ملزم کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا۔

October 10, 2026

وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی آج ملاقات متوقع ہے، جس میں خیبر پختونخوا کی صورت حال اور سیاسی تناؤ کم کرنے کے امکانات پر مشاورت ہوگی۔

October 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *