"> محسن نقوی: خیبر پختونخوا میں ہمارا مسئلہ دھرنا نہیں، دہشت گردی ہے
ایران کے سخت گیر عناصر مصالحتی عمل اور سفارت کاری کے مخالف ہیں، جس سے علاقائی امن اور خود ان کی سفارتی پوزیشن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

October 11, 2026

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کے ارکان اور ان کی ذمہ داریوں کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ وفاقی وزرا نے فیصلے کی وجوہات بھی بیان کیں۔

October 11, 2026

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر عوام اور سیاسی رہنماؤں نے پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کو 13 سالہ مشکلات سے نجات قرار دیا ہے۔

October 11, 2026

خیبر پختونخوا میں 1975 اور 1994 میں گورنر راج نافذ ہوا، جبکہ 1999 میں فوجی اقتدار نے حکومتی نظام تبدیل کردیا۔ موجودہ بحث میں آئینی فرق سمجھنا اہم ہے۔

October 11, 2026

صدر مملکت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق سمری پر دستخط کردیے، گورنر بطور ایڈمنسٹریٹر ذمہ داریاں سنبھالیں گے، وفاقی کابینہ نے وزیراعظم کو اس اقدام کی سفارش کرنے کی تجویز دی تھی۔

October 11, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو دس برس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے 800 ارب روپے دیے گئے، لیکن صوبائی حکومت دہشت گردوں کے خلاف وفاق کا ساتھ نہیں دے رہی۔

October 11, 2026

خیبرپختونخوا حکومت معطل، صوبائی معاملات چلانے کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل اور خصوصی سیکرٹریٹ قائم کرنے کا اعلان

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کے ارکان اور ان کی ذمہ داریوں کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ وفاقی وزرا نے فیصلے کی وجوہات بھی بیان کیں۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج

خیبر پختونخوا کی 11 رکنی ایڈوائزری کونسل میں کفایت اللہ خان، طارق محمود پاشا، نگار جوہر اور دیگر ارکان شامل ہیں۔ محسن نقوی نے گورنر راج کی وجوہات بھی بتائیں۔

October 11, 2026

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں وفاق کا مسئلہ دھرنا نہیں بلکہ دہشت گردی ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت سے مذاکرات اور رابطوں کے باوجود اتفاق رائے نہ ہونے پر گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اسلام آباد میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت تقریباً ایک ماہ سے خیبر پختونخوا حکومت کو اعتماد میں لینے کی کوشش کر رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں سے بھی رابطے جاری رہے۔ ان کے مطابق 10 اکتوبر کی رات تقریباً پونے 12 بجے تک بات چیت ہوتی رہی، لیکن مجوزہ مسودے پر جواب نہیں ملا۔

محسن نقوی نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت نے کبھی دھرنا ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق دھرنا مؤخر کرنے کی شرط پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے رکھی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کی بہتری پر ہے۔

وفاقی حکومت کا مؤقف

وزیر داخلہ نے کہا کہ صوبے کے بعض اضلاع میں حالات اس قدر خراب ہیں کہ لوگ شام کے وقت گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں 518 پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں۔

محسن نقوی کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ہونے والی ملاقاتوں میں دہشت گردی اور پولیس کو مضبوط بنانے پر بات ہوتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے وسائل کی کمی کا معاملہ اٹھایا تھا اور وفاق نے مالی معاونت کی یقین دہانی کرائی تھی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ وفاق اور صوبے کو مل کر لڑنا ہوگی۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کے ساتھ اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث وفاق کو گورنر راج کا مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔

ایمرجنسی اور گورنر راج کی وضاحت

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے گورنر نے امن و امان کی صورت حال سے متعلق اپنی رپورٹ وفاق کو بھجوائی۔ اس کے بعد وزیراعظم نے صدر مملکت کو صورت حال سے آگاہ کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو سے ڈھائی برس کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 196 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق فوج، پولیس اور دینی رہنماؤں پر حملوں میں بھی اضافہ ہوا۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صدر مملکت نے وزیراعظم کے مشورے پر آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کی۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کے اختیارات غیر فعال کر دیے گئے ہیں اور گورنر کو آئین کے تحت اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزیر قانون کے مطابق 11 رکنی ایڈوائزری کونسل تشکیل دی گئی ہے، جبکہ 12 اضلاع کے لیے ایک سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے، جہاں سے وفاق کو براہ راست رپورٹ دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیکل 245 کے تحت فوج بھی تعینات کی گئی ہے۔

عطا اللہ تارڑ کا مؤقف

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا حکومت پر دہشت گردوں کے ساتھ مبینہ اتحاد کے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس بیورو اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رپورٹس کے مطابق صوبے میں سکیورٹی کی صورت حال تشویش ناک ہے۔

عطا اللہ تارڑ کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی میں مطلوبہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہی۔

وفاقی وزرا نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر کیا گیا۔ تاہم وفاقی حکومت کے الزامات، پیش کیے گئے اعداد و شمار اور نئے انتظامی سیٹ اپ سے متعلق متعلقہ فریقین کا مؤقف بھی اہم ہوگا۔

خیبر پختونخوا ایڈوائزری کونسل کے ارکان

خیبر پختونخوا کے لیے تشکیل دی گئی ایڈوائزری کونسل میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو ذمہ داریاں دینے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ان میں سابق سرکاری افسران، ماہرین، قانونی شخصیات اور سیاسی نمائندے شامل ہیں۔

مشیر برائے داخلہ و قبائلی امور

کفایت اللہ خان سابق انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات، سابق چیئرمین فاٹا ٹریبونل اور سابق ڈپٹی سیکرٹری داخلہ و قبائلی امور رہ چکے ہیں۔ وہ ڈیرہ اسماعیل خان اور مردان کے کمشنر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

مشیر برائے خزانہ، ریونیو، ایکسائز و ٹیکسیشن

طارق محمود پاشا فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سابق چیئرمین رہ چکے ہیں۔ وہ وزیراعظم کے سابق معاونِ خصوصی برائے ریونیو، سابق سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن اور وزیراعظم سیکرٹریٹ میں سابق جوائنٹ سیکرٹری بھی رہے ہیں۔

مشیر برائے قانون و پارلیمانی امور

امیر جاوید سپریم کورٹ کے وکیل ہیں۔ وہ خیبر پختونخوا کے سابق ایڈووکیٹ جنرل اور پاکستان کے سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

مشیر برائے تعلیم

ڈاکٹر سید امیر عبداللہ خیبر پختونخوا کے سابق نگران صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت رہ چکے ہیں۔ وہ نیکٹا کی ماہرین کی سابق کمیٹی کے رکن بھی رہے ہیں اور نیدرلینڈز سے بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی کر چکے ہیں۔

مشیر برائے صحت

لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان پاک فوج کی سابق سرجن جنرل اور پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل ہیں۔ وہ ہسپتالوں میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری کے لیے قومی انسٹرکٹر بھی رہ چکی ہیں اور پبلک ہیلتھ میں ماسٹرز کی ڈگری رکھتی ہیں۔

مشیر برائے معدنیات

ڈاکٹر سرفراز علی شاہ سابق مشیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اور مواصلات و تعمیرات رہ چکے ہیں۔ انہوں نے فرانس سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی ہے۔

مشیر برائے صنعت و تجارت

ڈاکٹر محمد ارشاد فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سابق چیئرمین رہ چکے ہیں۔ وہ پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے بورڈ کے رکن بھی ہیں اور فنانس میں پی ایچ ڈی رکھتے ہیں۔

مشیر برائے مواصلات و تعمیرات

آصف رفیق آفریدی خیبر پختونخوا کے سابق نگران صوبائی وزیر ہیں۔ وہ کاروباری شخصیت ہیں اور تعمیرات و ترقیاتی شعبے سے وابستہ رہے ہیں۔

مشیر برائے اوقاف و مذہبی امور

مولانا محمد طیب قریشی خیبر پختونخوا کے چیف خطیب ہیں۔ وہ جامعہ اشرفیہ پشاور کے منتظم اور مسجد مہابت خان کے امام بھی ہیں۔

مشیر برائے منصوبہ بندی و ترقی

عثمان سیف اللہ خان سابق سینیٹر ہیں۔ وہ غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ کے بورڈ آف گورنرز کے رکن اور پاکستان اسٹیٹ آئل کے سابق بورڈ آف مینجمنٹ کے رکن رہ چکے ہیں۔ وہ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے خیبر پختونخوا چیپٹر کے سابق چیئرمین بھی ہیں۔

مشیر برائے اطلاعات و نشریات

ثمر ہارون بلور رکن قومی اسمبلی ہیں اور خیبر پختونخوا اسمبلی کی سابق رکن رہ چکی ہیں۔ وہ صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ کی سابق چیئرپرسن بھی ہیں۔

بارہ اضلاع میں نیا انتظامی نظام

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے 12 نامزد اضلاع میں ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ قائم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر اس نظام میں شامل ہیں۔ سیکریٹریٹ ایریا ریپریزنٹیٹو و ڈیولپمنٹ کونسل کی نگرانی میں کام کرے گا۔

حکمنامے کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا نامزد اضلاع کے ایڈمنسٹریٹر ہوں گے۔ انہیں سول انتظامیہ، پولیس اور فوجی حکام کو ہدایات دینے، متعلقہ محکموں کی نگرانی اور فنڈز کی تقسیم و منتقلی کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ یہ حکمنامہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

متعلقہ مضامین

ایران کے سخت گیر عناصر مصالحتی عمل اور سفارت کاری کے مخالف ہیں، جس سے علاقائی امن اور خود ان کی سفارتی پوزیشن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

October 11, 2026

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر عوام اور سیاسی رہنماؤں نے پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کو 13 سالہ مشکلات سے نجات قرار دیا ہے۔

October 11, 2026

خیبر پختونخوا میں 1975 اور 1994 میں گورنر راج نافذ ہوا، جبکہ 1999 میں فوجی اقتدار نے حکومتی نظام تبدیل کردیا۔ موجودہ بحث میں آئینی فرق سمجھنا اہم ہے۔

October 11, 2026

صدر مملکت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق سمری پر دستخط کردیے، گورنر بطور ایڈمنسٹریٹر ذمہ داریاں سنبھالیں گے، وفاقی کابینہ نے وزیراعظم کو اس اقدام کی سفارش کرنے کی تجویز دی تھی۔

October 11, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *