خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 8 رہنما پولیس کی حفاظتی تحویل میں ہیں۔
خیبر پختونخوا پولیس حکام نے بتایا کہ زیرِ تحویل رہنماؤں میں اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی اور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر بھی شامل ہیں۔
اجلاس آج ہوگا
دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خطرات کا جائزہ لینے کے لیے صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس آج طلب کر لیا ہے۔
فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت پشاور میں خصوصی سکیورٹی اجلاس بھی ہوا، جس میں شرکا کو بتایا گیا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے بھر میں صورتحال پُرامن اور معمول کے مطابق رہی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ سکیورٹی اداروں کی استعداد بڑھانے سے متعلق مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری رہے گی اور عوام سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
صوبے کا انتظام
خیبر پختونخوا حکومت کے غیر فعال ہونے کے بعد گورنر 11 رکنی مشاورتی کونسل کی مدد سے صوبے کا انتظام چلائیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی سمری پر دستخط کیے تھے۔
دیکھیے: صدر مملکت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کی منظوری دے دی، سمری پر دستخط