معروف صحافی اور پروگرام سرِعام کے میزبان اقرار الحسن کی گرفتاری کے بعد ان کے اہلِ خانہ نے فوری رہائی کی اپیل کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اقرار الحسن کو رات گئے گھر سے حراست میں لیا گیا، جس کے بعد ان کی اہلیہ اور بیٹے نے سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔
اقرار الحسن کی اہلیہ فرح یوسف نے بتایا کہ انہیں رات کے وقت کمرے سے نکال کر لے جایا گیا۔ انہوں نے اس کارروائی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔
وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سے اپیل
فرح یوسف نے کہا کہ اقرار الحسن نے پاکستان کے لیے کام کیا اور فراڈ کرنے والوں سمیت مختلف مافیاز کو بے نقاب کیا۔ ان کے مطابق، ایسے شخص کو گھر سے لے جانا تشویش ناک ہے۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملے کا نوٹس لیں، اقرار الحسن کی بحفاظت واپسی یقینی بنائیں اور اہلِ خانہ کی مدد کریں۔
اقرار الحسن کے بیٹے پہلاج نے بھی انسٹاگرام پر والد کی فوری رہائی کے لیے دعاؤں کی درخواست کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے والد کو سچ بولنے کی سزا دی جا رہی ہے۔
تاحال فراہم کردہ رپورٹ میں اقرار الحسن کی گرفتاری کی باضابطہ وجہ یا ان کے خلاف درج مقدمے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
دیکھیے: صدر مملکت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کی منظوری دے دی، سمری پر دستخط