"> اقرار الحسن گرفتار، سائبر کرائم مقدمے میں 4 روزہ ریمانڈ
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

اقرار الحسن سائبر کرائم کیس: عدالت نے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا

اقرار الحسن کے خلاف سائبر کرائم مقدمے میں کراچی کی عدالت نے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا، انہیں 17 اکتوبر کو دوبارہ پیش کیا جائے گا۔
اقرار الحسن کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ

اقرار الحسن کے خلاف سائبر کرائم مقدمے میں کراچی کی عدالت نے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ مقدمے میں سوشل میڈیا پر مبینہ مواد پھیلانے کے الزامات شامل ہیں۔

October 13, 2026

معروف اینکر پرسن سید اقرار الحسن کو سائبر کرائم کے مقدمے میں عدالت نے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کر دیا ہے۔ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر ریاست، اداروں اور عہدیداروں کے خلاف مبینہ طور پر اشتعال انگیز اور ہتک آمیز مواد پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

این سی سی آئی اے کراچی نے اقرار الحسن کے خلاف مقدمہ نمبر 101/2026 درج کیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق، ان پر ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مبینہ طور پر ایسا مواد شائع اور شیئر کرنے کا الزام ہے جس سے عوام کو ریاست اور آئینی اداروں کے خلاف اکسانے اور مختلف گروہوں میں نفرت پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

مقدمے میں الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون (پیکا) 2016، ترمیم شدہ 2025، کی دفعات 9، 10، 20، 24 اور 26-اے شامل کی گئی ہیں۔ یہ الزامات ایف آئی آر میں درج ہیں اور ان کی قانونی حیثیت کا تعین عدالتی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔

لاہور سے گرفتاری

مقدمے کے مطابق، این سی سی آئی اے کی تفتیشی ٹیم نے 12 اکتوبر 2026 کو لاہور میں کارروائی کرتے ہوئے سید اقرار الحسن کو گرفتار کیا۔ کارروائی کے دوران ان کے قبضے سے دو آئی فون 16 پرو، دو آئی فون 11 پرو اور ایک آئی پیڈ ایئر سمیت متعدد ڈیجیٹل آلات تحویل میں لیے گئے۔

ابتدائی تکنیکی رپورٹ کے مطابق، ایک آئی فون 16 پرو میں اقرار الحسن کے ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹس لاگ اِن تھے۔ رپورٹ میں فون کی گیلری سے مبینہ طور پر مقدمے سے متعلق ایک ویڈیو ملنے کا بھی ذکر ہے۔

تفتیشی حکام نے ڈیجیٹل آلات کو تفصیلی فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیجنے کی سفارش کی ہے۔ حکام کے مطابق، اس عمل سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور مبینہ مواد سے متعلق مزید شواہد حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

سترہ اکتوبر کو پیش کرنے کا حکم

آج صبح اقرار الحسن کو جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ، شرقی کراچی، محمد رضا انصاری کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ تفتیشی افسر نے مزید تفتیش، سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی کی تصدیق اور دیگر ڈیجیٹل آلات کی برآمدگی کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے اور کیس ڈائری کا جائزہ لینے کے بعد 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ عدالت نے تفتیشی حکام کو ہدایت کی کہ اقرار الحسن کو 17 اکتوبر 2026 کو پیشرفت رپورٹ کے ساتھ دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔

مقدمے میں عائد الزامات کے بارے میں حتمی فیصلہ عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *