خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے تمام اضلاع میں عوام نے اس فیصلے کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔ سوات سمیت مختلف شہروں کی عوام نے اس پیشرفت کو پی ٹی آئی کے دورِ حکومت کی بدحالی، مہنگائی اور بدامنی سے یومِ نجات قرار دیتے ہوئے نئے انتظامی سیٹ اپ سے مثبت امیدیں وابستہ کر لی ہیں۔
ناکام گورننس اور عوامی ردِعمل
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران خیبرپختونخوا کو سخت بدحالی، بے روزگاری اور مہنگائی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا تھا۔ صوبے کے عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے سابق حکمرانوں اور کرپٹ رہنماؤں کا فوری اور کڑا احتساب کیا جائے جبکہ ان کے اثاثوں کی بھی شفاف جانچ پڑتال کی جائے۔ عوام کے مطابق گورنر راج کا مقصد صوبے میں امن و امان کی بحالی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ
سیکیورٹی اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا شکریہ ادا کیا ہے، جنہوں نے اسلام آباد پولیس کی جانب سے کے پی پولیس کو 10 جدید بکتر بند گاڑیاں فراہم کی ہیں۔ اس اقدام سے صوبے میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں پولیس کی اہلیت اور اہلکاروں کے تحفظ میں نمایاں بہتری آئے گی۔
قومی یکجہتی
سیاسی مبصرین اور سینئر صحافی حامد میر کے مطابق اس فیصلے کی بنیاد کسی سیاسی جماعت کو دبانا نہیں بلکہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اگست 1947 میں اور بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ملک و قوم کی سلامتی کے لیے صوبائی سطح پر ہنگامی اقدامات کیے تھے۔ آج کا یہ قدم بھی اسی قومی مقصد اور امن کے قیام کی کڑی ہے۔





