سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے نئے انتظامی سیٹ اپ کو کارکردگی دکھانے کے لیے 180 دن کا ہدف دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس عرصے میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں اور آئندہ اقدامات کا فیصلہ کارکردگی کی بنیاد پر ہوگا۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں نیا سیٹ اپ قائم ہو چکا ہے۔ اب اس کی کارکردگی دیکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ انتظامیہ مطلوبہ نتائج نہ دے سکی تو اس کی جگہ بہتر کارکردگی دکھانے والے افراد کو ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔
پاکستان مخالف بیانات پر مؤقف
فیصل واوڈا نے پاکستان، قومی پرچم، قومی ترانے اور پاک فوج کے خلاف بیانات دینے والوں پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ قومی علامتوں اور شہدا کی قربانیوں کی مخالفت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سینیٹر نے خیبر پختونخوا میں گزشتہ 13 سال کی حکمرانی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں تباہی اور بدانتظامی کے مسائل موجود ہیں۔ ان کے بقول، اب نئے انتظامی سیٹ اپ کو اپنی کارکردگی سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ صوبے کے حالات بہتر بنا سکتا ہے۔
شہدا کی قربانیوں کا ذکر
فیصل واوڈا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ساڑھے سات ہزار افراد شہید ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہدا کے خاندانوں کی ضروریات کو ترجیح دی جانی چاہیے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ افغان شہریوں کو خیبر پختونخوا میں رکھنے سے متعلق پالیسی کیا تھی اور اس کے نتائج کا جائزہ کیوں نہیں لیا گیا۔ ان کے مطابق، ملک کو دہشت گردی سے محفوظ بنانے، معیشت کو مستحکم رکھنے اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے ریاستی اداروں اور حکومتوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔
فیصل واوڈا نے واضح کیا کہ دہشت گردی کا خاتمہ چند گھنٹوں یا دنوں میں ممکن نہیں۔ اس کے لیے وقت، مسلسل کوششوں اور بہتر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
کے پی گورنر سے توقعات
سینیٹر فیصل واوڈا نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے توقع ظاہر کی کہ وہ صوبے میں امن و امان اور انتظامی بہتری کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نئے سیٹ اپ کی کامیابی کا انحصار عملی نتائج پر ہوگا اور اسی بنیاد پر مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخوا کے حالات بہتر بنانے کے لیے نئے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، اگر موجودہ انتظامی اقدامات کامیاب رہے تو مزید فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔
سیاسی رہنماؤں سے متعلق دعوے
فیصل واوڈا نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پر بھی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ 27 ستمبر کو پارٹی کی کابینہ کے آٹھ افراد اسلام آباد میں ان کے ساتھ موجود تھے۔ تاہم انہوں نے اس دعوے کی مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور صدر آصف علی زرداری کے ساتھ بھی مختلف معاملات پر بات کریں گے۔ ان کے مطابق، پاکستان کی ترقی کے لیے سیاسی رہنماؤں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔
فیصل واوڈا نے آخر میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں نئے انتظامی سیٹ اپ کی کارکردگی آئندہ اقدامات کی سمت متعین کرے گی۔ ان کے بقول، دہشت گردی کا خاتمہ اور صوبے میں امن کی بحالی بنیادی ترجیحات ہونی چاہئیں۔





