خیبر کے علاقے باڑہ چوک میں توڑ پھوڑ اور بدامنی پھیلانے والے شرپسندوں کے خلاف پولیس نے بروقت اور سخت کارروائی کی ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بے بنیاد افواہوں اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی پراپگینڈا خبروں پر بالکل کان نہ دھریں۔
پولیس ترجمان نے واضح کیا ہے کہ باڑہ میں کوئی پولیس اہلکار اغواء نہیں ہوا اور اس حوالے سے گردش کرنے والی تمام خبریں من گھڑت اور گمراہ کن ہیں۔
اس کارروائی میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے فراہم کردہ جدید ڈیجیٹل ای پی سیز ٹیکنالوجی کا موثر استعمال کیا گیا۔ جدید سسٹم کی مدد سے پولیس نے موقع پر ہی قانون شکنی میں ملوث پی ٹی آئی سے وابستہ 50 کے قریب شرپسند عناصر کو دبوچ لیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار افراد میں 25 غیر قانونی افغان شہری بھی شامل ہیں جو پرتشدد مظاہروں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے میں پیش پیش تھے۔
پولیس نے تمام گرفتار ملزمان کی سخت تفتیش شروع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق املاک کو نقصان پہنچانے اور بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی، تخریب کاری اور قانون ہاتھ میں لینے کی سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔
قانونی ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شواہد کی روشنی میں ان شرپسندوں کو کم از کم 5 سال تک کی سخت قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فی الوقت باڑہ میں صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور امن و امان بحال کر دیا گیا ہے۔





