پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے 33 بچوں اور 2 خواتین اساتذہ سمیت 35 افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ حادثے کے بعد زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔
ریسکیو 1122 کے مطابق حادثہ الخیر اسکول سسٹم میں پیش آیا۔ چھت گرنے کے باعث طلبہ اور اساتذہ ملبے تلے دب گئے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں ایمبولینسز اور امدادی گاڑیوں کے ساتھ موقع پر پہنچ گئیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق زخمیوں کو ملبے سے نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، جبکہ نصیر اللہ بابر میموریل اسپتال میں بھی زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔
جاں بحق افراد میں 33 بچے شامل
اسپتال ذرائع کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والے 33 بچوں کے علاوہ 2 خواتین اساتذہ بھی شامل ہیں۔ ان کی شناخت 25 سالہ ثمرین اور 27 سالہ مہوش کے نام سے ہوئی ہے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق متعدد بچوں کو مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا، جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک تھی۔ نصیر اللہ بابر میموریل اسپتال میں منتقل کیے گئے 33 بچوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا۔
اسکول مالک گرفتار
سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور مقدمہ درج کرنے کا بھی بتایا ہے۔
سی سی پی او کے مطابق اسکول تنگ گلیوں میں واقع تھا، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکول میں تقریباً 110 بچے زیر تعلیم تھے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اسکول کی عمارت کا تکنیکی معائنہ نہیں کیا گیا تھا۔ اسکول مارچ 2026 میں خیبر پختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ رجسٹرڈ ہوا تھا۔
اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر جاوید اقبال کے مطابق ادارے کے پاس عمارتوں کا تکنیکی معائنہ کرنے والی ٹیم موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکول کو کلاس رومز اور دیگر انتظامی معیار پورا کرنے پر رجسٹر کیا گیا تھا۔
ضلعی انتظامیہ نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے انکوائری کمیٹی بھی قائم کی ہے۔ کمیٹی عمارت کی حالت اور چھت گرنے کے اسباب کا جائزہ لے گی۔
وزیراعظم اور گورنر کا اظہارِ افسوس
وزیراعظم شہباز شریف نے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ انہوں نے زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی واقعے پر دکھ کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
حادثے کے بعد پاک فوج اور دیگر امدادی اداروں نے بھی ریسکیو کارروائیوں میں حصہ لیا۔ واقعے کی وجوہات اور عمارت کی حفاظت سے متعلق حتمی حقائق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔





