خیبر پختونخوا میں اسکول کے اندر معصوم بچوں اور ایک استاد کی ہلاکت نے صوبے میں تعلیمی اداروں کی حفاظت اور حکومتی ترجیحات سے متعلق سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ سانحہ محض ایک افسوس ناک واقعہ نہیں، بلکہ اس امر کا جائزہ لینے کا موقع بھی ہے کہ طویل حکمرانی کے باوجود تعلیمی اداروں میں حفاظتی انتظامات کس حد تک مؤثر بنائے گئے اور بچوں کے تحفظ کو کتنی اہمیت دی گئی۔
پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں طویل عرصے سے اقتدار میں رہی ہے اور اس دوران تعلیم کے شعبے میں اصلاحات، تعلیمی سونامی اور بہتر تعلیمی سہولیات کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم، کسی بھی حکومت کی کارکردگی کا حقیقی معیار اس کے اعلانات نہیں، بلکہ عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور ان کے نتائج ہوتے ہیں۔ جب اسکولوں میں بچوں کی جانوں کے تحفظ سے متعلق سوالات سامنے آئیں تو ان دعوؤں اور زمینی حقائق کا تقابلی جائزہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔
تعلیمی اداروں کی ذمہ داری صرف نصاب کی تکمیل، امتحانات کے انعقاد اور طلبہ کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں۔ محفوظ عمارتیں، مناسب دیکھ بھال، حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد اور متعلقہ حکام کی نگرانی بھی ایک مؤثر تعلیمی نظام کے بنیادی تقاضے ہیں۔ اگر ان پہلوؤں میں خامیاں موجود ہوں تو ان کی بروقت نشاندہی اور اصلاح حکومت اور متعلقہ محکموں کی ذمہ داری ہے۔
اس واقعے کے تناظر میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اسکول کی عمارت اور حفاظتی انتظامات کا باقاعدہ معائنہ کیا گیا تھا؟ کیا متعلقہ حکام کو کسی ممکنہ خطرے کا علم تھا؟ اور اگر خامیاں موجود تھیں تو انہیں دور کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ ان سوالات کے جوابات شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات ہی کے ذریعے سامنے آ سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے غفلت یا کوتاہی کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
اس کے ساتھ صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کا حفاظتی آڈٹ بھی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ عمارتوں کی حالت، بنیادی سہولیات، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے کر فوری اصلاحی اقدامات کیے جائیں۔ کسی بھی ممکنہ خطرے کو نظرانداز کرنے کے بجائے متعلقہ اداروں کو واضح ذمہ داریاں سونپی جائیں، تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر نظام قائم کیا جا سکے۔
یہ سانحہ صوبائی حکومت کی ترجیحات پر بحث کو بھی اہم بناتا ہے۔ سیاسی سرگرمیاں جمہوری نظام کا حصہ ہیں، لیکن حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوامی مسائل کا حل اور شہریوں کا تحفظ ہے۔ اگر سیاسی محاذ آرائی اور جلسوں کے ساتھ تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی شعبوں کی کارکردگی بھی زیر بحث آ رہی ہے تو حکومت کو اعداد و شمار، عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق نتائج کے ذریعے اپنی کارکردگی واضح کرنی چاہیے۔
خیبر پختونخوا میں تیرہ سالہ حکمرانی اور تعلیمی سونامی کے دعوؤں کا جائزہ لیتے وقت بچوں کی سلامتی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ معصوم جانوں کا ضیاع سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا نہیں، سنجیدہ احتساب اور عملی اصلاحات کا تقاضا کرتا ہے۔ حکومت کی کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں کہ کتنے منصوبوں کا اعلان کیا گیا، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان منصوبوں نے عوام کو کتنا تحفظ اور سہولت فراہم کی۔
اب ضرورت بیانات سے آگے بڑھ کر شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے تعین اور صوبے کے ہر اسکول کو محفوظ بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ہے۔ کیونکہ تعلیم کا کوئی بھی دعویٰ اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک اسکول جانے والے بچے کی سلامتی یقینی نہ بنائی جائے





