بالی ووڈ اداکار عامر خان کے بھانجے اور معروف اداکار عمران خان شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ بھارت کے دفتر برائے غیر ملکی رجسٹریشن نے انہیں 28 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
امریکی شہریت رکھنے والے عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے ممبئی میں ایک سیاسی احتجاج میں شرکت کی۔ اس شرکت کے باعث انہوں نے اوورسیز سٹیزن آف انڈیا کے قوانین کی ورزی کی ہے۔
بی جے پی رہنما کی شکایت
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما کیرت سومیا کی شکایت پر کی گئی۔
کیرت سومیا کا الزام ہے کہ عمران خان نے ممبئی کے آگست کرانتی میدان میں کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرے میں شرکت کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ غیر ملکی شہری ہونے کے ناطے وہ کسی سیاسی سرگرمی کا حصہ نہیں بن سکتے۔
ممبئی کے علاقے کھار میں رہائش پذیر عمران خان کو پولیس کی جانب سے نوٹس موصول ہو چکا ہے۔
پولیس افسر کے مطابق اداکار کے خلاف امیگریشن ایکٹ کی دفعات 29 اور 7 کے تحت قانونی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
مظاہرے کے دوران ممبئی پولیس نے تقریباً 400 افراد کو حراست میں لیا تھا۔ ان میں عمران خان، ان کی گرل فرینڈ لیکھا واشنگٹن، والدہ نصرت اور بھانجی زین بھی شامل تھے۔
مظاہرین انتخابی فہرستوں میں بے ضابطگیوں کے خلاف چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
تشدد کے الزامات اور ملک بدری کا مطالبہ
رہائی کے بعد عمران خان کی بھانجی زین نے سوشل میڈیا ویڈیو میں پولیس تشدد اور بدسلوکی کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے اپنے جسم پر موجود نیل کے نشانات بھی دکھائے۔
دوسری جانب بی جے پی رہنما کیرت سومیا نے گام دیوی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروا کر عمران خان کی فوری گرفتاری اور ملک بدری کا مطالبہ کیا ہے۔
سومیا کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اپنے او سی آئی اسٹیٹس کا غلط استعمال کیا ہے اور سیاسی انتہا پسندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے پولیس کو عمران خان کے بیانات کے شواہد بھی جمع کروا دیے ہیں۔





