"> خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی: محسن نقوی

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی روکنے کی آخری وقت تک کوشش کی: محسن نقوی

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے بچنے کے لیے آخری وقت تک مذاکرات کی کوشش کی۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی محسن نقوی

محسن نقوی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سے بچنے کے لیے مذاکرات کیے، تاہم دہشت گردی اور ایپکس کمیٹی کے معاملے پر مشکلات پیش آئیں۔

October 15, 2026

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت کی پوری کوشش تھی کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی نوبت نہ آئے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبے میں دہشت گردی کے مسئلے پر صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون اور مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی، تاہم کئی مراحل پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت آخری لمحے تک ایمرجنسی کے نفاذ سے بچنے اور معاملات افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بھی کئی مرتبہ ذاتی طور پر ملاقات کر چکے ہیں۔

کمیٹی کے قیام میں مشکلات

وزیر داخلہ نے کہا کہ رواں سال فروری میں پشاور میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، تاہم خیبر پختونخوا میں اس کمیٹی کے قیام کے لیے بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت چاہتی تھی کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں تعاون کرے اور اس مقصد کے لیے بات چیت کے تمام ممکنہ راستے اختیار کیے گئے۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی کے متعدد واقعات پیش آئے اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار شہید ہوتے رہے۔ ان کے بقول، ایسے واقعات کے اگلے روز وزیراعلیٰ کی جانب سے فوج کے خلاف بیانات سامنے آتے تھے، جس سے وفاقی اور صوبائی حکومت کے مؤقف میں اختلافات نمایاں ہوئے۔

کے پی یں دہشتگری

محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤقف اختیار کرنے والے بعض سیاسی رہنماؤں سے بھی اس معاملے پر بات ہوئی۔ انہوں نے اسد قیصر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤقف اور صوبائی حکومت کے بیانات میں فرق تھا۔ وزیر داخلہ کے مطابق مذاکرات کے دوران بھی دہشت گردی کا مسئلہ ان کی اولین ترجیح رہا۔

انہوں نے زور دیا کہ کسی سیاسی جماعت پر دہشت گردی کا الزام نہیں لگانا چاہیے اور سیاسی معاملات کو ذمہ داری سے آگے بڑھانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی جماعت کو دہشت گردی سے جوڑنے سے پہلے حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

وزیر داخلہ نے متعلقہ سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ اپنی صوبائی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر اس معاملے کا جائزہ لے اور ان غلطیوں کی نشاندہی کرے جن کی وجہ سے موجودہ صورت حال پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر پریس ریلیز بھی جاری کی گئی ہے، تاہم ان کے بقول متعلقہ فریقین کی جانب سے دہشت گردی کی مذمت نہیں کی گئی۔

محسن نقوی نے ایک بار پھر کہا کہ وفاقی حکومت نے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی اور وہ خود مذاکراتی عمل سے پیچھے نہیں ہٹے۔ ان کے مطابق اس معاملے کو سیاسی بیانات کے بجائے حقائق کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

سعودی وزارت داخلہ کے مطابق مکہ کی ایک مسجد میں مبینہ فحش فعل کے الزام میں گرفتار بنگلہ دیشی مرد اور خاتون کو 14 اکتوبر کو سزائے موت دے دی گئی۔

October 15, 2026

البانیا کے دارالحکومت تیرانا میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ وزیراعظم ایڈی راما نے مظاہرین کو مذاکرات کی دعوت دے دی۔

October 15, 2026

ڈراما حرمت شرعی پردے کی تضحیک پر شدید تنازع کا شکار ہے۔ فیملی ولاگنگ کے بعد ٹی وی اسکرینز پر اسلامی اقدار کے خلاف بیانیہ اخلاقی بحران کا باعث بن رہا ہے۔

October 15, 2026

انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے بعد پی ٹی آئی کا بیانیہ ناکام ہو گیا۔ صوبے میں صرف 16 علامتی احتجاج ہوئے جن میں عوام کی شرکت نہ ہونے کے برابر رہی۔

October 15, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *