"> مکہ کی مسجد میں فحاشی کرنے کا الزام

مکہ کی مسجد میں فحاشی کرنے کا الزام: بنگلہ دیشی مرد اور عورت کو سزائے موت دے دی گئی

سعودی وزارت داخلہ کے مطابق مکہ کی ایک مسجد میں مبینہ فحش فعل کے الزام میں گرفتار بنگلہ دیشی مرد اور خاتون کو 14 اکتوبر کو سزائے موت دے دی گئی۔
مکہ کی مسجد میں فحاشی کرنے کا الزام

سعودی عرب میں مکہ کی ایک مسجد میں مبینہ فحش فعل کے الزام میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی۔ سعودی وزارت داخلہ نے عدالتی کارروائی کی تفصیلات جاری کر دیں۔

October 15, 2026

سعودی عرب میں مکہ مکرمہ کی ایک مسجد کے اندر مبینہ فحش فعل کے الزام میں گرفتار بنگلہ دیشی مرد اور خاتون کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔ سعودی وزارت داخلہ کے مطابق دونوں کے خلاف عدالتی کارروائی مکمل ہونے اور اعلیٰ عدالت کی جانب سے فیصلہ برقرار رکھے جانے کے بعد 14 اکتوبر کو سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔

سعودی پریس ایجنسی نے وزارت داخلہ کے بیان کے حوالے سے بتایا کہ نذر الاسلام عبدالبصیر اور سیتی اختر پر مکہ کی ایک مسجد میں فحش فعل کے ارتکاب کا الزام تھا۔ سعودی حکام نے بتایا کہ سکیورٹی اداروں نے دونوں کو گرفتار کرکے متعلقہ عدالت میں پیش کیا تھا۔

سعودی وزارت داخلہ کے مطابق عدالت نے دونوں ملزمان کے خلاف عائد الزامات کی توثیق کرتے ہوئے تعزیر کے تحت سزائے موت سنائی۔ حکام کے مطابق فیصلے میں جرم کی سنگینی، مسجد کے تقدس کی خلاف ورزی اور اس فعل کے حالات کو مدنظر رکھا گیا۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی گئی تھی، تاہم اعلیٰ عدالت نے سزا برقرار رکھی۔ اس کے بعد سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے شاہی حکم جاری کیا گیا۔

سعودی حکام کے مطابق بدھ، 14 اکتوبر کو شاہی حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے دونوں کو سزائے موت دے دی گئی۔

واقعے کی تفصیلات

سعودی حکام نے واقعے سے متعلق کئی اہم تفصیلات جاری نہیں کیں۔ ان میں یہ بھی شامل ہے کہ مبینہ فعل کی نوعیت کیا تھی، واقعہ مکہ کی کس مسجد میں پیش آیا اور ملزمان کو ابتدائی طور پر کب گرفتار کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ حکام نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ ابتدائی عدالتی فیصلہ کب سنایا گیا اور اپیل مسترد ہونے کا فیصلہ کس تاریخ کو آیا۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے کی جانب سے جاری کردہ معلومات میں عدالتی کارروائی اور سزائے موت پر عمل درآمد کی تفصیلات تو بیان کی گئی ہیں، تاہم واقعے کے حالات اور مقدمے کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔

متعلقہ مضامین

البانیا کے دارالحکومت تیرانا میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ وزیراعظم ایڈی راما نے مظاہرین کو مذاکرات کی دعوت دے دی۔

October 15, 2026

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے بچنے کے لیے آخری وقت تک مذاکرات کی کوشش کی۔

October 15, 2026

ڈراما حرمت شرعی پردے کی تضحیک پر شدید تنازع کا شکار ہے۔ فیملی ولاگنگ کے بعد ٹی وی اسکرینز پر اسلامی اقدار کے خلاف بیانیہ اخلاقی بحران کا باعث بن رہا ہے۔

October 15, 2026

انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے بعد پی ٹی آئی کا بیانیہ ناکام ہو گیا۔ صوبے میں صرف 16 علامتی احتجاج ہوئے جن میں عوام کی شرکت نہ ہونے کے برابر رہی۔

October 15, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *