ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم اور اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم کے مشترکہ اجلاس کے دوران افغان طالبان کے سفیر نے پاکستان کے خلاف بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے۔ افغان طالبان کے سفیر مولوی گل حسن نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان خطے کی سلامتی کے لیے واحد خطرہ ہے اور اسلام آباد مسلح گروہوں کو افغانستان منتقل کر رہا ہے۔
افغان طالبان کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے یہ من گھڑت الزامات حقائق کے بالکل منافی ہیں کیونکہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان پر اس قسم کے بے بنیاد الزمات عائد کرنے والے خود اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہے ہیں اور دنیا اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے۔
روس نے افغان طالبان کے اس جھوٹے پراپیگنڈے اور پاکستان مخالف مؤقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کی قلعی کھول دی ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ماسکو میں منعقدہ کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ اصل خطرہ پاکستان نہیں بلکہ افغانستان کے اندر موجود دہشت گرد اور انتہا پسند گروہ ہیں۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ افغانستان کے تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان سے متصل علاقوں میں دہشت گردوں کے تربیتی مراکز اور ٹھکانے بدستور سنگین خطرہ ہیں۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے مطابق، انٹیلی جنس اداروں کے جائزوں سے ثابت ہوتا ہے کہ داعش خراسان خطے کے لیے بنیادی خطرہ ہے اور انتہا پسند افغانستان کو وسطی ایشیا اور روس میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
عالمی برداری اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے اس دوٹوک مؤقف نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کے خلاف افغان طالبان کا پروپیگنڈا محض اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی ناکام سازش ہے۔ دنیا اب یہ مانتی ہے کہ پاکستان امن کا داعی ہے جبکہ دہشت گردی کی اصل جڑ افغان سرزمین ہے جہاں سے انتہا پسندوں کو پناہ مل رہی ہے۔





