"> مولانا فضل الرحمن اور طالبان
مددگار یا مکار؟ ایجوکیشن کنسلٹنٹ یا فراڈ کا ماہر؟

مددگار یا مکار؟

بیرونِ ملک تعلیم کا خواب دھوکے میں نہ بدلنے دیں۔ ایجنٹ کے دعووں، فیس اور داخلے کی تصدیق کرکے اپنے مستقبل اور رقم کو محفوظ بنائیں۔

مذہبی بیانیہ یا اقتدار کی جادوگری؟

مولانا فضل الرحمن کی سیاست، افغان طالبان سے روابط، تحریک طالبان پاکستان کے معاملے پر مؤقف اور دینی مدارس کے سیاسی اثر و رسوخ کا جائزہ۔
مولانا فضل الرحمن اور طالبان

October 17, 2026

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی شخصیت ہمیشہ سے بحث اور متنازع بیانات کا مرکز رہی ہے۔ ان کی سیاست کا ایک بڑا محور مذہبی جذبات، افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ان کا رویہ اور مذہبی مدارس پر اثر و رسوخ رہا ہے۔ اس تحقیقی آرٹیکل میں ان کے انھی پہلوؤں اور اندرونی گٹھ جوڑ کا ایک غیر جانبدارانہ جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔

نظریاتی ہم آہنگی

مولانا فضل الرحمن، افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان تینوں کی بنیادی جذبات اور فکری وابستگی دیوبندی مکتبہ فکر سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں قائم دینی مدارس کا ایک بڑا شبکہ جے یو آئی کے اثر و رسوخ میں رہا ہے، جہاں سے نکلنے والے افراد نے بعد میں طالبان تحریکوں کی بنیاد رکھی یا ان میں شامل ہوئے۔ یہی مشترکہ فکری پس منظر مولانا اور ان کی جماعت کو ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے لیے ایک قدرتی نرم گوشہ فراہم کرتا ہے۔

مدارس پر سیاسی قبضہ

پاکستان بھر خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہزاروں مدارس کا انتظام وفاق المدارس العربیہ اور جے یو آئی سے منسلک شخصیات کے پاس ہے۔ ماہرین کے مطابق، ان مدارس کو نہ صرف مذہبی تعلیم کے لیے بلکہ سیاسی قوت، الیکشن میں ووٹ بینک اور مذہبی بیانیے کی تسخیر کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ مدارس پر اس انتظامی و سیاسی قبضے کی وجہ سے کوئی بھی حکومت یا ادارہ ان سے سخت سوال کرنے سے کتراتا ہے، اور یہی مدارس مولانا کی سیاسی اور سفارتی طاقت کی بنیادی ڈھال ہیں۔

ٹی ٹی پی کے ساتھ لچکدار رویہ

جب ریاستِ پاکستان ٹی ٹی پی کی دہشت گردی اور خونریزی کے خلاف نبرد آزما تھی، مولانا فضل الرحمن کا مؤقف ہمیشہ فوجی آپریشنز کے برعکس مذاکرات اور سیاسی حل کے گرد گھومتا رہا۔ ٹی ٹی پی کو کھلے عام یا واضح طور پر دہشت گرد قرار دینے سے گریز کرنا، اور ہر کارروائی کو ریاستی پالیسیوں کا ردِعمل کہنا دراصل ٹی ٹی پی کو فکری و سماجی سہولت کاری فراہم کرنے کے مترادف رہا ہے۔ ماضی میں ٹی ٹی پی نے بھی ریاست سے بات چیت کے لیے مولانا کو ہی اپنا معتمد ثالث چنا۔

کابل کا دورہ

افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بعد پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں شدید اضافہ ہوا، جس پر اسلام آباد اور کابل کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔ اسی تناظر میں مولانا فضل الرحمن نے افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت، بشمول ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ اور سراج الدین حقانی سے قندھار اور کابل میں خصوصی ملاقاتیں کیں۔ یہ دورہ بظاہر دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلانے اور ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں کے معاملے پر افغان طالبان کو قائل کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔

عملی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ مولانا کا یہ دورہ ٹی ٹی پی کے حملے رکوانے یا افغان طالبان کے رویے میں کوئی بنیادی تبدیلی لانے میں مکمل طور پر ناکام رہا، اور پاکستان میں سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی بدستور جاری رہی۔ تاہم اس ناکامی کے باوجود مولانا اور ان کے میڈیا سیل نے اس دورے کو ایک عظیم سفارتی فتح کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے اسے اپنی عالمی و علاقائی اہمیت اور افغان حکومت پر اپنے گہرے اثر و رسوخ کا ثبوت بنا کر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کیا۔

سیاسی مفادات

مولانا فضل الرحمن کے اس تمام طرزِ عمل کے پیچھے خالصتاً سیاسی اور نظریاتی مفادات کارفرما ہیں۔ ایک طرف وہ خود کو پاکستانی نظام اور جمہوریت کا حصہ بنا کر اقتدار کے ایوانوں میں قائم رکھتے ہیں، تو دوسری طرف افغان طالبان اور ٹی ٹی پی جیسے عسکریت پسند عناصر کے ساتھ روابط رکھ کر مذہبی ووٹ بینک کو اپنے قبضے میں رکھتے ہیں۔ اس دوہری پالیسی کے ذریعے وہ ریاست کے لیے بھی خود کو ایک ضرورت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن، مدارس کے شبکے، افغان طالبان اورٹی ٹی پی کے درمیان تعلق ایک ایسا پیچیدہ تانا بانا ہے جہاں مذہب، سیاست اور سفارت کاری کے نام پر اپنے مفادات حاصل کیے جاتے ہیں۔ اگرچہ وہ تشدد کی براہِ راست حمایت سے بچے رہتے ہیں، لیکن ٹی ٹی پی کے معاملے پر ان کا مسلسل نرم گوشہ، افغان دورے کی ناکامی کو کامیابی دکھانا اور مدارس پر سیاسی کنٹرول یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ شدت پسند عناصر کو یکسر مسترد کرنے کے بجائے انہیں اپنے سیاسی وزن کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

خیبر پختونخوا کے 180 روزہ ایکشن پلان میں 27 محکموں کے لیے 206 اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں صحت، تعلیم، سڑکوں، روزگار اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔

October 17, 2026

بیرونِ ملک تعلیم کا خواب دھوکے میں نہ بدلنے دیں۔ ایجنٹ کے دعووں، فیس اور داخلے کی تصدیق کرکے اپنے مستقبل اور رقم کو محفوظ بنائیں۔

October 17, 2026

جنرل سید عامر رضا نے کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سرحد پار دراندازی برداشت نہیں کرے گا اور ملکی دفاع کے لیے تیار ہے۔

October 17, 2026

چاغی کے علاقے دالبندین میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 2 مطلوب دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

October 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *