افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملکی معیشت شدید بدحالی اور عدم استحکام کا شکار ہے۔ ایک حالیہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی سالانہ درآمدات کا حجم تقریباً 12 ارب ڈالر ہے جبکہ برآمدات محض 1.7 ارب ڈالر تک محدود ہیں۔
اس سنگین صورتحال نے ملک کو 10.3 ارب ڈالر کے بے پناہ تجارتی خسارے میں دھکیل دیا ہے، جس نے طالبان حکومت کے انتظامی دعوؤں اور معاشی حکمت عملی پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اتنے بڑے تجارتی فرق اور حکومتی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے طالبان کی جانب سے غیر قانونی اور مبہم ذرائع پر انحصار کرنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ تجارتی خسارہ اور حکومتی بجٹ مختلف ہوتے ہیں، لیکن بیرونی دنیا سے کاٹے جانے کے باوجود طالبان کا معاشی نظام چلنا اس بات کا اشارہ ہے کہ رژیم کے پسِ پردہ معاشی ذرائع شفاف نہیں ہیں۔
اگست 2021 سے اب تک افغانستان کو حاصل ہونے والی 17.5 ارب ڈالر کی بین الاقوامی مالی معاونت پر بھی شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ عالمی امدادی اداروں کا مقصد صرف عام شہریوں کو خوراک اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے، مگر طالبان پر یہ الزام عائد ہوتا ہے کہ وہ ان انسانی امدادی رقوم اور وسائل کا غیر مساوی استعمال کر کے اپنے اقتدار کی بنیادوں کو سہار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ملک میں منشیات کی غیر قانونی تجارت بھی طالبان رژیم کا ایک سیاہ پہلو ہے۔ افیون پر ظاہری پابندی کے بعد ملک میں کرسٹل میتھ اور دیگر مصنوعی منشیات کی تیاری کے لیے ہزاروں خفیہ لیبارٹریاں قائم ہونے کی خبریں ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کیمیائی اجزا کی درآمد اور پھر ایران، ازبکستان، ترکمانستان اور پاکستان کے سرحدی راستوں سے منشیات کی عالمی اسمگلنگ طالبان کے زیرِ سایہ پالے جانے والے غیر قانونی معاشی نیٹ ورک کا حصہ ہے۔
عالمی برادری اور تجزیہ کار اب اس بات پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث طالبان حکومت کی نادیدہ مالی معاونت کے پیچھے کیا مقاصد ہیں۔
طالبان کے سرکاری محصولات، بیرونی انسانی امداد کے غلط استعمال اور منشیات کی بلیک مارکیٹ پر مبنی اس معیشت کا شفاف جائزہ ثابت کرتا ہے کہ طالبان کا معاشی ماڈل عام افغان عوام کی فلاح کے بجائے ایک غیر قانونی اور غیر مستحکم نظام کی بقا پر قائم ہے۔





