سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف ایک بار پھر منظم پراپیگنڈا مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس مہم کے تحت دشمن عناصر اور بعض گمراہ کن اکاؤنٹس کی جانب سے ایک پرانی اور فرضی ویڈیو کو حالیہ بتا کر شیئر کیا جا رہا ہے۔
تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیرِ گردش ویڈیو کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ دراصل 2021 کی ویڈیو ہے جب افغانستان کے علاقے پنجشیر میں سابق افغان فوج کے سپاہیوں کے ہتھیار ڈالنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔
بھارتی اور افغان سوشل میڈیا ہینڈلز ہمیشہ سے پاکستان کے خلاف جھوٹی خبریں اور فیک ویڈیوز پھیلانے میں پیش پیش رہے ہیں۔ ان عناصر کا بنیادی مقصد ملک میں بدامنی پھیلانا اور اداروں کے خلاف سازش کرنا ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے عوام نے حالیہ احتجاجی سیاست اور شور شرابے سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ عوام کی جانب سے سڑکوں پر نہ نکلنے پر باہر بیٹھے فسادیوں نے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر جھوٹی ویڈیوز کا سہارا لیا ہے۔
سکیورٹی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ عوام کو ایسے عناصر کی کسی بھی افواہ یا جھوٹی خبر پر کان نہیں دھرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر کسی بھی ویڈیو کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی اصلیت کی جانچ کرنا انتہائی ضروری ہے۔





