افغانستان کی سرزمین پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی موجودگی اور افغان طالبان کی عبوری حکومت کے ساتھ ان کے قریبی روابط کا ایک اور واضح ثبوت سامنے آ گیا ہے۔
خوست میں افغان طالبان کے عبوری وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی سے ٹی ٹی پی کے ایک اہم دہشت گرد کی ملاقانی کی تفصیلات منظرِ عام پر آئی ہیں، جس نے دونوں کالعدم اور عسکریت پسند گروہوں کے درمیان گہرے تعلقات اور گٹھ جوڑ کو ایک بار پھر طشت از بام کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران ٹی ٹی پی دہشت گرد نے سراج الدین حقانی سے اپنا تعارف کرواتے ہوئے اعتراف کیا: میرا نام ذبیح اللہ ہے، میرا تعلق کوٹکئی، جنوبی وزیرستان سے ہے اور میں ٹی ٹی پی کے حکیم اللہ محسود اور قاری حسین دھڑوں سے وابستہ ہوں۔“
دہشت گرد کے اس کھلے اعتراف سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث انتہائی خطرناک دھڑوں کے عناصر نہ صرف افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں قائم کیے ہوئے ہیں بلکہ افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت تک ان کی براہِ راست رسائی بھی حاصل ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کا بین ثبوت ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے دعوے حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔
خوست میں اعلیٰ سطح پر ہونے والی اس ملاقات نے ایک بار پھر عالمی برادری اور پاکستان کے اس موقف کی تصدیق کر دی ہے کہ ٹی ٹی پی افغان سرزمین کو پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کے لیے بلا روک ٹوک استعمال کر رہی ہے، جسے افغان عبوری حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے۔





