"> طالبان انٹیلی جنس کا پاکستان کو بدنام کرنے کا مبینہ منصوبہ

طالبان انٹیلی جنس کا پاکستان کو بدنام کرنے کا مبینہ منصوبہ، سنسنی خیز انکشافات

طالبان انٹیلی جنس پر پاکستان کے خلاف مبینہ منصوبے کا الزام، جس کے تحت داعش کے جعلی اعترافات روس اور دیگر ممالک کو پیش کرنے کا دعویٰ ہے۔
طالبان انٹیلی جنس کا پاکستان کو بدنام کرنے کا مبینہ منصوبہ

افغان انٹیلی جنس جی ڈی آئی کے مبینہ منصوبے پر سنسنی خیز دعویٰ؛ داعش جنگجوؤں کے بیانات ریکارڈ کر کے پاکستان کو بدنام کرنے اور روس و ایران کو گمراہ کرنے کی کوشش کا الزام۔

October 26, 2026

طالبان حکومت کے انٹیلی جنس ادارے (جی ڈی آئی) پر پاکستان کے خلاف ایک مبینہ کمپین چلانے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ دعوے کے مطابق افغان انٹیلی جنس ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد عالمی و علاقائی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور اسے خطے میں دہشت گردی کا مرکز بنا کر پیش کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تحت مختلف افغان شہریوں کے اعترافی بیانات اور ویدیو ریکارڈنگز کی جا رہی ہیں۔ ان بیانات میں یہ دعویٰ کروایا جا رہا ہے کہ مذکورہ افراد کا تعلق داعش خراسان یا افغان مزاحمتی گروہوں سے ہے، اور انہوں نے طالبان حکومت کے خلاف کارروائیوں کے لیے پاکستان میں موجود تربیتی مراکز سے تربیت حاصل کی ہے۔

مبینہ منصوبے کے تحت ان ریکارڈ شدہ بیانات اور اعترافات کو روس، تاجکستان، ازبکستان اور ایران جیسے اہم علاقائی ممالک کے حکام کے سامنے بطورِ ثبوت پیش کیا جائے گا۔ اس کا مقصد ان ممالک کے خدشات کو پاکستان کی جانب موڑنا اور سفارتی سطح پر اسلام آباد کے خلاف تحفظات پیدا کرنا ہے۔

ان اعترافی بیانات کو صرف سفارتی ذرائع تک محدود نہیں رکھا جائے گا، بلکہ انہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل کرنے اور میڈیا کے ساتھ بات چیت کے دوران طالبان عہدیداروں کی جانب سے باقاعدہ بطورِ سند پیش کرنے کی منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔

معتبر حلقوں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کی بنیادی توجہ داعش خراسان کے خطرے پر مرکوز ہے۔ اسی لیے افغان حکام مبینہ طور پر داعش کی سرگرمیوں کا مرکز پاکستان کو قرار دینے کی مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔

تحریر کے مطابق اگر طالبان حکومت اپنی تمام تر توانائیاں پاکستان پر الزام تراشی پر صرف کرنے کے بجائے دہشت گردی کے اصل مسئلے کے حل پر لگائیں تو خطے کی صورتِ حال میں واضح بہتری آسکتی ہے۔ تاہم، یہ نقطہ نظر بھی سامنے آیا ہے کہ موجودہ افغان انتظامیہ مسائل کا پائیدار اور سیاسی حل نکالنے کے بجائے دیگر طریقوں کو ترجیح دے رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

تہران میں مکہ دفاعی اتحاد اور ایرانی قیادت کا اہم اجلاس۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع اور ترک انٹیلی جنس چیف کی خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی حل کے لیے شرکت۔

October 26, 2026

پاکستان نے سعودی عرب کے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقوں پر حوثی میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

October 26, 2026

مودی حکومت کی پاکستان دشمن پالیسیوں نے سکھ یاتریوں کی مذہبی آزادی سلب کر دی، جس پر بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ نے شدید تنقید کی ہے۔

October 26, 2026

بلوچستان کے 28 سرکاری محکموں میں ای فائلنگ کے ذریعے ایک لاکھ 83 ہزار سے زائد فائلز نمٹائی جا چکی ہیں، جبکہ 10 محکموں کی سمریز کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

October 26, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *