"> طالبان کا پولیس اکیڈمی سے تجربہ کار اساتذہ کا صفایا

طالبان کا پولیس اکیڈمی سے تجربہ کار اساتذہ کا صفایا، حقانی کے من پسند افراد تعینات

طالبان حکومت نے نیشنل پولیس اکیڈمی سے 30 سالہ تجربہ کار 15 انسٹرکٹرز کو برطرف کر کے سراج الدین حقانی کے من پسند افراد کو تعینات کر دیا ہے۔
طالبان کا پولیس اکیڈمی سے تجربہ کار اساتذہ کا صفایا

طالبان حکومت نے افغان پولیس اکیڈمی کے 15 سینئر انسٹرکٹرز کو فارغ کر کے سراج الدین حقانی کے قریبی افراد کو تعنیات کر دیا، جس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

October 26, 2026

افغانستان پر قابض طالبان حکومت کی جانب سے قومی اداروں میں پیشہ ورانہ قابلیت کو بلائے طاق رکھتے ہوئے من پسند اور غیر تجربہ کار افراد کی نوازشات کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ تازہ ترین اقدام میں طالبان انتظامیہ نے نیشنل پولیس اکیڈمی سے 30 سال سے زائد کا دفاعی اور تدریسی تجربہ رکھنے والے 15 سینئر اور ماہر انسٹرکٹرز کو بیک جنبشِ قلم برطرف کر دیا ہے۔

امو ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، ان پیشہ ور افسران اور ماہرین کو نکال کر ان کی جگہ طالبان کے عبوری وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی کے قریبی اور وفادار افراد کو راتوں رات تائینات کر دیا گیا ہے۔ اکیڈمی کے بنیادی ڈھانچے میں اس غیر قانونی تبدیلی نے طالبان کے اندرونی گروہ بندی اور قبضہ مافیا طرز کی حکمرانی کو طشت از بام کر دیا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں اور مبصرین نے طالبان کی اس پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے افغان اداروں کو تبا کرنے کی گہری سازش قرار دیا ہے۔ نقادوں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت میں تعلیم، مہارت اور تجربے کی کوئی وقعت نہیں رہی، بلکہ حکومت کی نظر میں واحد معیار صرف بااثر طالبان رہنماؤں سے اندھی وفاداری ہے۔

معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عشروں کا تجربہ رکھنے والے انسٹرکٹرز کی برطرفی سے افغان پولیس فورس کی تربیت کا شعبہ مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔ سیاسی اور ذاتی وابستگیوں کی بنیاد پر نااہل افراد کی تقرری سے ادارے کا مسلک اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں دم توڑ رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، طالبان کا یہ اقدام اس تلخ حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ افغان عوام کو ایک مؤثر اور پیشہ ور ادارہ دینے کے بجائے اپنے ذاتی سیاسی مفادات اور پسند ناپسند کو فوقیت دے رہے ہیں۔ قابلیت کے برعکس محض قربت کی بنیاد پر بانٹی جانے والی ان تقرریوں کی بھاری قیمت بالآخر افغان عوام کو ادارہ جاتی تبا کاری اور بدامنی کی صورت میں چکانا پڑے گی۔

متعلقہ مضامین

تہران میں مکہ دفاعی اتحاد اور ایرانی قیادت کا اہم اجلاس۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع اور ترک انٹیلی جنس چیف کی خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی حل کے لیے شرکت۔

October 26, 2026

پاکستان نے سعودی عرب کے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقوں پر حوثی میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

October 26, 2026

مودی حکومت کی پاکستان دشمن پالیسیوں نے سکھ یاتریوں کی مذہبی آزادی سلب کر دی، جس پر بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ نے شدید تنقید کی ہے۔

October 26, 2026

بلوچستان کے 28 سرکاری محکموں میں ای فائلنگ کے ذریعے ایک لاکھ 83 ہزار سے زائد فائلز نمٹائی جا چکی ہیں، جبکہ 10 محکموں کی سمریز کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

October 26, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *