افغانستان پر قابض طالبان حکومت کی جانب سے قومی اداروں میں پیشہ ورانہ قابلیت کو بلائے طاق رکھتے ہوئے من پسند اور غیر تجربہ کار افراد کی نوازشات کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ تازہ ترین اقدام میں طالبان انتظامیہ نے نیشنل پولیس اکیڈمی سے 30 سال سے زائد کا دفاعی اور تدریسی تجربہ رکھنے والے 15 سینئر اور ماہر انسٹرکٹرز کو بیک جنبشِ قلم برطرف کر دیا ہے۔
امو ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، ان پیشہ ور افسران اور ماہرین کو نکال کر ان کی جگہ طالبان کے عبوری وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی کے قریبی اور وفادار افراد کو راتوں رات تائینات کر دیا گیا ہے۔ اکیڈمی کے بنیادی ڈھانچے میں اس غیر قانونی تبدیلی نے طالبان کے اندرونی گروہ بندی اور قبضہ مافیا طرز کی حکمرانی کو طشت از بام کر دیا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں اور مبصرین نے طالبان کی اس پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے افغان اداروں کو تبا کرنے کی گہری سازش قرار دیا ہے۔ نقادوں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت میں تعلیم، مہارت اور تجربے کی کوئی وقعت نہیں رہی، بلکہ حکومت کی نظر میں واحد معیار صرف بااثر طالبان رہنماؤں سے اندھی وفاداری ہے۔
معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عشروں کا تجربہ رکھنے والے انسٹرکٹرز کی برطرفی سے افغان پولیس فورس کی تربیت کا شعبہ مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔ سیاسی اور ذاتی وابستگیوں کی بنیاد پر نااہل افراد کی تقرری سے ادارے کا مسلک اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں دم توڑ رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، طالبان کا یہ اقدام اس تلخ حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ افغان عوام کو ایک مؤثر اور پیشہ ور ادارہ دینے کے بجائے اپنے ذاتی سیاسی مفادات اور پسند ناپسند کو فوقیت دے رہے ہیں۔ قابلیت کے برعکس محض قربت کی بنیاد پر بانٹی جانے والی ان تقرریوں کی بھاری قیمت بالآخر افغان عوام کو ادارہ جاتی تبا کاری اور بدامنی کی صورت میں چکانا پڑے گی۔





