تاریخ کے صفحات پر کچھ نام ایسے رقم ہوتے ہیں جو وقت کی دھول میں دھندلانے کے بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید روشن اور تابندہ ہو جاتے ہیں۔ نائیک سیف علی جنجوعہ شہید (نشانِ حیدر / ہلالِ کشمیر) کا نام بھی ایک ایسی ہی لازوال اور درخشندہ داستانِ شجاعت کا عنوان ہے۔ 26 اکتوبر کو ان کی 78 ویں برسی کے موقع پر جہاں مسلح افواج، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، صدرِ مملکت اور وزیراعظم سمیت پوری قوم نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا، وہیں یہ دن ہمیں اپنے ان ہیروز کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے وطنِ عزیز کی حرمت، آزادی اور خودمختاری کے لیے اپنے خون سے تاریخ کے سنہرے باب لکھے۔
سن 1948 کی جنگِ آزادیِ کشمیر میں نائیک سیف علی جنجوعہ شہید نے جس بے مثال دلیری اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، وہ عسکری تاریخ کا ایک نادر باب ہے۔ پیر کلیوا کی اہم دفاعی چوٹی کا دفاع کرتے ہوئے جب دشمن نے عددی اور دفاعی وسائل کے زعم میں شدید ترین حملہ کیا، تو نائیک سیف علی اور ان کے دستے نے چٹان کی طرح جم کر اس کا مقابلہ کیا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے نہ صرف میدانِ جنگ کو خیرباد کہنے سے انکار کیا بلکہ آخری سانس تک اپنے جوانوں کی قیادت کرتے رہے اور دشمن کے تمام عزائم کو خاک میں ملا دیا۔
آزاد کشمیر رجمنٹ کے اس بہادر سپوت نے یہ ثابت کر دیا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ بے خوف جذبے اور عزمِ مصمم سے جیتی جاتی ہیں۔
نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر کا سب سے بڑا عسکری اعزاز ہلالِ کشمیر حاصل کرنے والے واحد غازی ہیں، جسے بعد میں حکومتِ پاکستان نے اعلیٰ ترین عسکری اعزاز نشانِ حیدر کے مساوی قرار دیا۔
آزاد کشمیر کے علاقے نکیال (کوٹلی) میں جنم لینے والے اس جری جوان نے درحقیقت وادیِ کشمیر کے بیٹے ہونے کا حق ادا کیا۔ ان کا یہ اقدام سرحدوں کی نگہبانی سے بڑھ کر ارضِ پاک سے اس سچی اور بے لوث محبت کا ثبوت تھا جو ایک مومن کو جامِ شہادت نوش کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
شہداء کی قربانیاں صرف ماضی کا حصہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ قوم کے مستقبل کی سمت متعین کرتی ہیں۔ آئی ایس پی آر اور ملک کی اعلیٰ قیادت کے پیغامات اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ پاکستان اپنے شہداء کے خون کا ہمیشہ مقروض رہے گا۔
آج جب ملک کو اندرونی و بیرونی سطح پر مختلف چیلنجز اور سیکورٹی خطرات کا سامنا ہے، نائیک سیف علی جنجوعہ شہید اور ان جیسے دیگر تمام شہداء کی داستانیں ہماری آنے والی نسلوں اور پاسبانانِ وطن کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
شہداء کی خونِ جگر سے سینچی گئی یہ دھرتی اس بات کی گواہ ہے کہ جب تک اس قوم کے جوانوں میں وطن پر مٹ مٹنے کا یہ جذبہ قائم ہے، پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی آفت اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ قوم اپنے اس عظیم ہیرو کو سلام پیش کرتی ہے اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہے۔





