مودی حکومت کی پاکستان دشمن پالیسیاں اور تعصب ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے۔ بھارت کی جانب سے سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد پر پابندی اور کرتارپور راہداری کی بندش نے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ سکھ برادری کی مذہبی آزادی کو بھی سخت متاثر کیا ہے۔
بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان نے پنجاب اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مودی حکومت کی تنگ نظر پالیسیوں پر شدید سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں منعقد ہونے والی ورلڈ پنجابی کانفرنس میں شرکت کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کا رویہ انتہائی متعصبانہ ہے۔
مذہبی آزادی اور دورہ پاکستان
وزیراعلیٰ بھگونت مان نے اسمبلی کے سامنے مودی حکومت کا اصلی چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ جو حکومت انہیں فرانس اور جاپان جانے کی اجازت نہیں دیتی، وہ انہیں پاکستان جانے کی اجازت کیسے دے سکتی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی مرکزی حکومت سکھوں کو ان کے مقدس مقامات سے دور رکھنے کی سازش کر رہی ہے۔
بھارتی پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور ارکان اسمبلی نے بھی وزیراعلیٰ کے ساتھ پاکستان آنے اور مقدس مقامات کی زیارت کی خواہش ظاہر کی ہے۔ بھگونت مان نے ارکانِ اسمبلی کے ہمراہ گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور اور گوردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب میں حاضری کے لیے کرتارپور راہداری کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا۔
مئی 2025 سے عائد یکطرفہ پابندی
پہلگام واقعے کا بہانہ بنا کر مودی حکومت نے مئی 2025 سے بھارتی سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس متعصبانہ قدم کے باعث سرحد پار کے ہزاروں سکھ یاتری اپنے انتہائی مقدس مذہبی مقامات کی زیارت سے محروم ہیں، جس سے سکھ برادری میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے مودی حکومت کے اس منفی رویے کے برعکس واضح کیا ہے کہ راہداری کے مسائل کے باوجود پاکستان بھارتی سکھ یاتریوں کے استقبال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی سیاحت کے فروغ کا احترام کیا ہے، جبکہ مودی حکومت سیاسی مفادات کے لیے مذہبی آزادیاں سلب کر رہی ہے۔





