ایرانی دارالحکومت تہران میں معاہدۂ مکہ برائے مشترکہ دفاع کے رکن ممالک اور ایرانی قیادت کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کا انعقاد ہو رہا ہے۔ اس اہم اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کر رہے ہیں، جبکہ سعودی وفد کی قیادت وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کی نمائندگی انٹیلی جنس چیف ابراہیم کالن کر رہے ہیں۔
یہ اجلاس خطے میں جاری موجودہ بحران کی شدت کو کم کرنے اور فریقین کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کا قیام اور قطر و پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔
پاکستان کی تجویز پر اجلاس
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق اس چار ملکی اجلاس کا انعقاد فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورہ تہران کے دوران پیش کی گئی تجویز کی بنیاد پر ہوا ہے۔ ایران نے پاکستان کی اس مثبت پیشکش کو سراہتے ہوئے اجلاس کے انعقاد کی منظوری دی تھی۔
معاہدۂ مکہ کے رکن ممالک کا یہ وفد ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل محسن رضائی سے تفصیلی ملاقاتیں کرے گا۔ اجلاس میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں، لبنان کی صورتحال اور خطے کی مجموعی سکیورٹی پر بات چیت کی جائے گی۔
قطری ثالثی اور امریکی مطالبات
اس اجلاس کے ساتھ ہی قطر کے مصالحت کاروں کا وفد بھی تہران پہنچ چکا ہے جو ایرانی حکام کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطالبات پہنچائے گا۔ دوسری جانب، ایران اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے مطالبات پر قائم ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اگست 2026 میں معاہدۂ مکہ برائے مشترکہ دفاع پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی بھی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔ یہ اتحاد خطے میں بڑھتی ہوئی سکیورٹی چیلنجز کے مقابلے کے لیے بنایا گیا ہے۔





