"> ملا ہیبت اللہ کی کتاب اور طالبان: قول و فعل کا تضاد - HTN Urdu

ملا ہیبت اللہ کی کتاب اور طالبان: قول و فعل کا تضاد

ملا ہیبت اللہ کی کتاب میں مسلمان کی جان و مال کے تحفظ، حکمرانوں کی اطاعت اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات پر عمل کی تعلیم دی گئی ہے۔
ملا ہیبت اللہ کی کتاب اور طالبان: قول و فعل کا تضاد

ملا ہیبت اللہ کی کتاب میں درج عقائد اور پاکستان میں ٹی ٹی پی کی مسلح کارروائیوں کے درمیان تضاد، طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی اور اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد سے متعلق سوالات۔

October 29, 2026

ملا ہیبت اللہ کی کتاب ’’د اہل سنت والجماعت عقیدہ‘‘ مارچ 2025 میں شائع ہوئی۔ یہ بنیادی طور پر طالبان کی جانب سے اپنے عقائد کے اظہار اور طالبان اہلکاروں کی تربیت کے لیے لکھی گئی کتاب ہے، جس کے شائع ہونے کے بعد ہر طالب کے لیے اس کا مطالعہ لازم قرار دیا گیا تھا۔ پشتو زبان میں لکھی ہوئی 177 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں ملا ہیبت اللہ نے بنیادی طور پر قرآن و حدیث کی روشنی میں 110 عقائد لکھے ہیں۔ اس کتاب کے مندرجات میں کوئی اختلافی پہلو شامل نہیں ہے۔ کتاب کی ترتیب یہ ہے کہ ملا ہیبت اللہ نے پہلے ایک یا دو جملوں میں اپنا عقیدہ لکھا، اس کے بعد اس پر قرآن مجید کی آیات سے دلیل دی، پھر احادیث مبارکہ سے استدلال کیا اور آخر میں وضاحت یا تبصرہ لکھا۔

پوری کتاب میں کوئی قابل اعتراض پہلو نہیں ہے، مسلمانوں کے عمومی عقائد بیان کیے گئے ہیں، لیکن یہ کتاب طالبان حکومت کے قول و فعل کے تضاد کو بے نقاب کرتی ہے، اور ان کے اپنے تسلیم کردہ عقائد کی روشنی میں ہی انہیں اللہ اور رسول ﷺ کی تعلیمات کا باغی ثابت کرنے کو کافی ہے۔

کتاب میں عقیدہ نمبر 82 اس طرح سے درج ہے، اور یہی حقیقی اسلامی عقیدہ بھی ہے کہ

وہ تمام شرعی احکام اور ان کی تفصیلات حق ہیں جو رسول اللہ ﷺ سے مستند طریقے سے نقل ہوئے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے قول کے مطابق:

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا (حشر، 7)

ترجمہ: اور جو کچھ رسول تمہیں دیں اسے لے لو اور جس چیز سے منع کریں اس سے باز آ جاؤ۔

حدیث کے مطابق، ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تم میں سے کسی کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنی مسند پر ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا ہو اور میرا کوئی حکم آئے تو کہے کہ ہمیں نہیں معلوم، ہم تو صرف کتاب اللہ میں جو پائیں گے اس پر عمل کریں گے۔

اس کے بعد عقیدہ نمبر 83 ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ:

’’ایمان ایک ہے اور مومنین اپنے اصل ایمان میں برابر ہیں، ان کے درمیان فضیلت اور برتری کا معیار اللہ سے ڈر، تقویٰ، خواہشات کی مخالفت اور افضل اعمال کی پیروی ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کے قول کے مطابق:

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ (الحجرات، 13)

ترجمہ: بے شک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔

ملا ہیبت اللہ کی کتاب سے پیش کردہ اس اقتباس کی روشنی میں دیکھا جائے تو اللہ اور رسول ﷺ نے تو سب مسلمانوں کو برابر فرمایا، اور یہی اسلام کا طرۂ امتیاز بھی ہے۔ جبکہ فروری 2025 میں طالبان سربراہ ملا ہیبت اللہ کی جانب سے تیار کردہ اور مارچ میں اسی کے حکم سے نافذ کردہ پینل کوڈ میں تعزیرات کے نفاذ کے حوالے سے انسانوں کو چار طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کیا یہ اللہ اور رسول ﷺ کے احکامات کی خلاف ورزی نہیں؟

اسی کتاب کے صفحہ 129 پر عقیدہ نمبر 88 کے تحت ہیبت اللہ نے لکھا ہے کہ

’’اختلافات اور مسائل کے بارے میں اصول: ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی امت کے کسی فرد کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی جائے گی، سوائے اس شخص کے جس کے خلاف شرعی طور پر تلوار اٹھانا واجب ہو۔‘‘

(دلیل کے طور پر چار احادیث دی گئی ہیں، جو تمام کی تمام صحیح ہیں۔)

حدیث: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ جب وہ یہ کام کر لیں تو انہوں نے اپنے خون اور مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا، سوائے اسلام کے حق کے؛ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔

تشریح

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں کسی انسان کے خون اور مال کی حرمت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ جب کوئی شخص اسلام کے ظاہری بنیادی احکام کو قبول کر لے تو اس کے ساتھ اسلامی احکام کے مطابق معاملہ کیا جائے گا۔ اس کے باطن اور نیت کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔

حضرت ابن عمر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے ہتھیار اٹھا کر اپنے مسلمان بھائی کی طرف اشارہ کیا، اس پر فرشتے لعنت کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔

حدیث کا مفہوم: مسلمانوں کو ایک دوسرے کی جان و مال کا احترام کرنا چاہیے۔ کسی مسلمان کو خوف زدہ کرنا یا اس کے خلاف ہتھیار اٹھانا سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔

یہ اقتباس ثابت کرتا ہے کہ ملا ہیبت اللہ بھی اسلام کے اس اساسی عقیدے کو تسلیم کرتا ہے کہ کسی کلمہ گو مسلمان کو قتل کرنا تو رہا ایک طرف، اس کی طرف ہتھیار سیدھا کرنا بھی جرم اور اللہ رب العزت کی ناپسندیدگی اور فرشتوں کی لعنت کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس عقیدے کے ہوتے ہوئے ٹی ٹی پی سمیت تمام دہشت گردوں کی پاکستان میں وارداتوں کی سرپرستی کیوں کی جاتی ہے؟

کیا یہ سرپرستی اللہ اور رسول ﷺ سے بغاوت نہیں؟

ٹی ٹی پی، گل بہادر، القاعدہ اور دیگر تمام دہشت گرد پاکستان میں علما سمیت ہزاروں کی تعداد میں بے گناہ مسلمانوں کو قتل کر چکے ہیں، جو کلمہ گو تھے، آقا محمد ﷺ کے فرمانبردار تھے، قبلے کی جانب رخ کرکے نماز پڑھتے تھے، ذبیحہ کھاتے تھے۔ ان مسلمانوں کا قتل اسلام کے احکامات اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات سے کھلی بغاوت نہیں؟

طالبان کی جانب سے ایسے باغیوں اور اللہ اور رسول ﷺ کے احکامات تسلیم نہ کرنے والوں کی سرپرستی اور ان کے جرائم میں معاونت کیا بذاتِ خود طالبان کی دین سے بغاوت نہیں؟

طالبان اور ٹی ٹی پی کے ہاتھوں مسلمانوں کے اس قتل عام کو اگر خود ملا ہیبت اللہ کے عقیدے اور قرآن مجید کی اس آیت کی روشنی میں دیکھا جائے جس میں اللہ نے فرمایا ہے کہ:

مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا (المائدہ، 32)

ترجمہ: جس نے کسی جان کو بغیر اس کے کہ وہ قصاص کی مستحق ہو یا زمین میں فساد پھیلائے، قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا، اور جس نے کسی کو زندہ رکھا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندہ رکھا۔

(یہی حکم سورۂ اسراء، سورۂ انعام، سورۂ الفرقان میں بھی ہے۔)

تو ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد اللہ اور رسول ﷺ کے باغی اور فساد فی الارض کے مرتکب ہیں۔ جن کے بارے میں اللہ کا حکم واضح ہے کہ:

وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ (البقرہ، 193)

ترجمہ: انہیں قتل کرو (مارو) یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔

ہیبت اللہ کی اسی کتاب میں عقیدہ نمبر 89 یوں لکھا گیا ہے کہ

’ہم اپنے حکمرانوں کے خلاف بغاوت نہیں کرتے، اگرچہ وہ ظلم کریں، ان کے لیے بھلائی چاہتے ہیں، ان کی اطاعت کو فرض سمجھتے ہیں، ان کی اطاعت سے ہاتھ نہیں کھینچتے جب تک وہ اللہ کے حکم کے خلاف حکم نہ دیں، اور ان کی اصلاح و حفاظت کے لیے دعا کرتے ہیں۔‘

اللہ تعالیٰ کے قول کے مطابق

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے صاحبانِ امر کی۔

حدیث کے مطابق، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی۔

اسی طرح عقیدہ نمبر 90 میں لکھا ہے کہ

ہم سنت اور مسلمانوں کی جماعت کی پیروی کرتے ہیں اور انحراف، اختلاف اور تفرقے سے بچتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے قول کے مطابق:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

ترجمہ: بے شک تمہارے لیے رسول اللہ میں بہترین نمونہ ہے۔

حدیث کے مطابق، عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں تقویٰ، سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کی، اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام حکمران بنا دیا جائے، اور فرمایا کہ میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے پکڑ لو، اور نئی باتوں سے بچو کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

اس اقتباس کی روشنی میں ہمارا سوال یہ ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے دو ٹوک فرما دیا کہ اپنے مسلمان حکمرانوں کے خلاف بغاوت نہ کرو، چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں، تو ان واضح احکامات اور ملا ہیبت اللہ کی جانب سے ان احکامات کی تشریح کی روشنی میں پاکستان میں ٹی ٹی پی کی دہشت گردی فساد فی الارض نہیں؟ اگر ہے اور یقیناً ہے تو پھر طالبان اس خلافِ شریعت عمل کی سرپرستی کیوں کر رہے ہیں؟

طالبان کا قول و فعل، اللہ اور رسول ﷺ کے احکامات سے کھلی بغاوت

ملا ہیبت اللہ کی کتاب میں درج عقائد اسلام کی ایک سچی تصویر ہیں، جبکہ ان کا طرز عمل اپنے اسی تسلیم شدہ عقیدے سے کھلی بغاوت ہے۔ یہ محض سیاسی مصلحت یا انتظامی کمزوری کا معاملہ نہیں، بلکہ ان کے مذہبی دعووں کی صداقت پر بنیادی سوال اٹھاتا ہے۔ ملا ہیبت اللہ نے اپنی کتاب میں تسلیم کیا ہے کہ مسلمان کی جان و مال محترم ہیں، رسول اللہ ﷺ کے احکامات کی پیروی لازم ہے اور کسی مسلمان کی طرف ہتھیار اٹھانا سخت قابل مذمت عمل ہے۔ قرآن مجید کی سورۂ المائدہ کی آیت 32 میں ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مماثل قرار دیا گیا ہے۔ اس واضح اصول کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹی ٹی پی اور دیگر مسلح گروہوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں مسلمانوں کی ہلاکتوں کا شرعی جواز کیا ہے؟ ان میں علما، نمازی، شہری اور سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ ان کا جرم کیا تھا کہ انہیں قتل کیا گیا؟ کیا ان کا کلمہ پڑھنا، نماز ادا کرنا اور مسلمان ہونا ان کی جانوں کے تحفظ کے لیے کافی نہیں؟

اگر طالبان قیادت ٹی ٹی پی یا دوسرے مسلح گروہوں کو پناہ، سہولت یا معاونت فراہم کرتی ہے تو یہ عمل اس کے اپنے تسلیم کردہ عقائد سے براہ راست متصادم ہے۔ ایسے میں طالبان کو محض یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنی کتاب میں اسلامی تعلیمات بیان کرتے ہیں۔ سوال کتاب کے مندرجات کا نہیں، ان پر عمل درآمد کا ہے اور اپنے ہی عقائد کی روشنی میں وہ اللہ کے مجرم ثابت ہو رہے ہیں۔

ملا ہیبت اللہ نے عقیدہ نمبر 89 میں حکمرانوں کے خلاف بغاوت سے اجتناب کی تعلیم دی ہے۔ اگر طالبان اس اصول کو درست سمجھتے ہیں تو پاکستان میں حکومت کے خلاف مسلح کارروائیاں کرنے والی ٹی ٹی پی کے بارے میں ان کا موقف کیا ہے؟ کسی حکومت کی پالیسی سے اختلاف، اس کے خلاف تنقید یا سیاسی مخالفت بے گناہ شہریوں اور اہلکاروں کو قتل کرنے کا شرعی جواز فراہم نہیں کرتی۔ اگر طالبان اپنے لیے اطاعت اور نظم کا اصول تسلیم کرتے ہیں تو دوسروں کے لیے اس کے برعکس معیار اختیار کرنے کی توجیہ بھی انہیں پیش کرنا ہوگی۔

متعلقہ مضامین

لوئر جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں افغان طالبان کی جانب سے عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے بعد پاک افغان فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔

October 29, 2026

ٹانک اور پشاور میں سکیورٹی فورسز کی دو کارروائیوں میں 10 خوارج اور دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ ٹانک میں 16 خوارج زخمی ہوئے۔

October 29, 2026

نتاشہ کے واقعات، تکبر، طاقت کے غلط استعمال اور کمزور افراد کے حقوق کے تناظر میں انصاف اور قانون کی بالادستی پر اہم سوالات۔

October 29, 2026

محسن نقوی نے مولانا فضل الرحمان کے ریاست مخالف بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دل میں جے یو آئی سربراہ کے لیے احترام باقی نہیں رہا۔

October 29, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *