ملک بھر میں امن و امان کی بحالی اور ریاستی رٹ کو برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی آپریشنز تیزی سے جاری ہیں۔ باجوڑ، وزیرستان، اور بلوچستان سمیت مختلف حساس علاقوں میں کالعدم تنظیموں خواہ وہ تحریک طالبان پاکستان ہو، گل بہادر گروپ ہو یا بی ایل اے کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں باجوڑ میں 4 خوارج کی ہلاکت اور بھاری مقدار میں اسلحے کی برآمدگی فورسز کی مسلسل گشت اور مؤثر حکمتِ عملی کا ثبوت ہے، جس نے دہشت گرد نیٹ ورکس کی دفاعی و عملیاتی صلاحیتوں کو سخت دھچکا پہنچایا ہے۔
ان کامیابیوں کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کو درپیش چیلنجز کی نوعیت بھی بدل رہی ہے۔ جنوبی وزیرستان کے علاقے زرملان میں کواڈ کاپٹر ڈرون کے ذریعے شہری آبادی پر حملہ، جس میں ایک خاتون اور بچہ زخمی ہوئے، دہشت گردوں کی بدلتی حکمتِ عملی کو ظاہر کرتا ہے۔ کالعدم تنظیموں کا جدید ڈرون ٹیکنالوجی کا سہارا لے کر عام شہریوں کو نشانہ بنانا اور ان کے پیچھے بیرونی خفیہ اداروں کی معاونت کے شواہد، پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کی گہری سازش کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اس تمام تر صورتِ حال میں سب سے اہم پہلو مقامی آبادی کا دہشت گرد عناصر کے خلاف کھلم کھلا سامنے آنا ہے۔ وانا کے علاقے کاری کوٹ میں ملک جمیل کمیٹی کے لشکر کی جانب سے خوارج سے قبضے میں لی گئی موٹر سائیکلوں کو چوک پر نذرِ آتش کرنا اس بات کا واضح پیغام ہے کہ عوام اب دھمکیوں، بھتہ خوری اور ہراسانی سے تنگ آ چکے ہیں۔ مقامی قبائل نے خوارج کے اس بیانیے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے کہ وہ عوام کے نمائندے ہیں، اور یہ عوامی مزاحمت اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد اب اپنے ہی علاقوں میں تنہا ہو چکے ہیں۔
عوام کی جانب سے سکیورٹی فورسز کی بڑھتی ہوئی حمایت اس جنگ میں ایک اہم موڑ ہے۔ جب مقامی آبادی اور ریاستی ادارے ایک ہی صفحے پر ہوں، تو کسی بھی پرتشدد گروہ کے لیے زیادہ دیر قائم رہنا ممکن نہیں رہتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سکیورٹی فورسز انٹیلی جنس کی بنیاد پر اپنی کارروائیوں کو منطقی انجام تک پہنچائیں، بیرونی معاونت کے راستوں کو مکمل بند کریں، اور عوام کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں تاکہ ملک میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔





