افغان وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان سرحدی افواج نے صوبہ ننگرہار کے مختلف علاقوں میں کامیاب کاروائی کے دوران پاکستان سے اسمگل کیا جانے والا بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور منشیات برآمد کر لی ہیں۔
افغان وزارتِ دفاع کے مطابق201 خالد بن ولید کور اور انٹیلیجنس اہلکاروں کو سرحدی علاقوں میں مشکوک نقل و حمل کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر ننگرہار کے مختلف مقامات پر سرچ آپریشن کیا گیا، جس کے نتیجے میں 13 دستی بم، 10 کارٹن چھپایا گیا اسلحہ و کارتوس اور 20 کلوگرام افیون برآمد کر کے قبضے میں لے لی گئی۔
وزارتِ دفاع کے ترجمان نے جاری کردہ بیان میں واضح کیا کہ ضبط کیا گیا یہ تمام مواد پاکستان سے غیر قانونی طور پر افغانستان منتقل کیا جا رہا تھا، جسے افغان دفاعی افواج نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔
د افغان سرحدي ځواکونو له خوا لسګونه قبضې تفنګچې، مخدره مواد او مهمات ونیول شول
— د ملي دفاع وزارت – وزارت دفاع ملی (@MoDAfghanistan2) April 9, 2026
د ۲۰۱ خالد بن وليد (رض) قول اردو د استخباراتي او کشفي منسوبینو د یو لړ کشفي راپورونو په اساس نن ورځ د ننګرهار ولايت په بېلابېلو ساحو کې ۱۳قبضې لاسي تفنګچې، ١٠ کارتنه پټاقې او ۲۰کلچې تریاک ونيول. pic.twitter.com/U8XnCZVN3j
ماہرین کے مطابق افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے پاکستان پر حالیہ الزامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ کابل کی اس روایتی الزام تراشی کا تسلسل ہے جس کا مقصد ہمیشہ اپنی داخلی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب افغان سرزمین پر موجود ‘فتنہ الخوارج’ اور دیگر دہشت گرد گروہ پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں، کابل کی جانب سے ثبوتوں کے بغیر اسمگلنگ کے دعوے کرنا عالمی برادری کی توجہ اصل حقائق سے ہٹانے کی ایک مذموم کوشش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں منشیات کے پھیلاؤ کا مرکز بننے والا ملک اب ان ریاستوں پر انگلیاں اٹھا رہا ہے جو خود اس لعنت اور سرحد پار دہشت گردی کا شکار ہیں۔
نیز ایسے وقت میں جب چین کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، اس قسم کے الزامات اور کاروائیاں سرحدی صورتحال پر گہری اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح پاکستان نے ہمیشہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی اور اسمگلنگ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور ایک مؤثر سکیورٹی اہلکاروں اور انتظامات پر زور دیا ہے۔