اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی صورتحال پر گرما گرم بحث ہوئی، جس میں افغانستان کے مستقل مندوب نصیر احمد فائق نے طالبان حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک نہ تو کوئی اعتدال پسندی آئی ہے اور نہ ہی کوئی مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔
حقوق نسواں اور حکمرانی
نصیر احمد فائق نے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کو عوامی زندگی سے مکمل طور پر مٹا دیا گیا ہے، جبکہ ملک دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور سنگین معاشی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان عوام وقار، انصاف اور ایک ایسی جامع حکومت کے حقدار ہیں جو ان کی اجتماعی امنگوں کی ترجمانی کر سکے۔ انہوں نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ عالمی وعدوں کے مطابق انسانی حقوق اور خواتین کی آزادی کو یقینی بنائیں۔
عالمی برادری کا مطالبہ
سلامتی کونسل کے ارکان نے بھی اس بات پر اتفاق کیا کہ افغانستان کو دوبارہ دہشت گردی کا گڑھ بننے سے روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ عالمی برادری نے مطالبہ کیا کہ طالبان حکومت اپنے وعدے پورے کرے تاکہ افغانستان میں پائیدار امن، استحکام اور جامع حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔