افغانستان کے سیاسی منظرنامے پر ایک زبردست ہلچل کی کیفیت طاری ہے جہاں سیاسی جماعت “حزب وحدت اسلامی” سے وابستہ درجنوں ارکان نے ایک ساتھ اجتماعی استعفے دے دیے ہیں۔ یہ احتجاجی اقدام جماعت کے بااثر ہزارہ رہنماء محمد محقق کی قیادت میں کام کرنے والے گروپ نے پارٹی کی مرکزی قیادت کے طرزِ عمل اور تنظیم میں “مقامی نمائندگی کے فقدان” کے خلاف اٹھایا ہے۔
مرکزیت پسندی اور عوامی روابطہ
مستعفی اراکین نے ابتدائی بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی اپنے بانی اصولوں سے ہٹ چکی ہے اور “عوامی امیدوں کی ترجمانی کرنے میں مکمل ناکام” ہوگئی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ فیصلہ سازی کا عمل ایک محدود حلقے میں مرکوز ہوکر رہ گیا ہے، جس نے صوبائی و علاقائی کارکنوں کو بالکل حاشیے پر ڈال دیا ہے۔ بالخصوص ہزارہ برادری جس کی سیاسی نمائندگی کی یہ جماعت دعوے دار رہی ہے، کے مسائل اور آواز کو پارٹی ایجنڈے میں مناسب جگہ نہ ملنے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے۔
محقق کا خاموش راگ اور سیاسی مستقبل
اگرچہ محمد محقق خود یا ان کے قریبی ترجمان نے اب تک اس معاملے پر کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا، لیکن مستعفی ارکان نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سیاسی سرگرمیاں آزادانہ طور پر” آگے بڑھائیں گے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق محقق گروپ کے سامنے یا تو ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے یا پھر موجودہ سیاسی دھارے میں کسی نئے اتحاد کی راہ اختیار کرنے کے اختیارات ہیں۔ ان کا بنیادی ہدف مقامی سطح پر اپنے حلقہ اثر میں مؤثر سیاسی نمائندگی بحال کرنا ہے۔
اثر و رسوخ کے خاتمے کا آغاز؟
سیاسی تجزیہ کار اس واقعے کو افغانستان کی ہمہ پہلو سیاسی تاریخ میں ایک “اہم موڑ” قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ استعفے ایک ایسے وقت میں آئے ہیں جب ہزارہ برادری سمیت مختلف حلقوں میں “نئی قیادت اور نئی حکمتِ عملی” کی بحث زور پکڑ رہی ہے۔ کئی مبصرین تو اسے “محقق کے عرصہ دراز سیاسی اثر و رسوخ کے زوال کا آغاز” بھی قرار دے رہے ہیں۔
حکام کی خاموشی
اب تک نہ تو حزب وحدت اسلامی کی مرکزی قیادت کی طرف سے اور نہ ہی طالبان حکومت کی جانب سے اس بڑے سیاسی انشقاق پر کوئی رسمی موقف سامنے آیا ہے۔ اس خاموشی کو سیاسی حلقوں میں تنظیم کے اندرونی بحران کی “گہرائی اور پیچیدگی” کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ خیال ہے کہ پارٹی قیادت ہنگامی بنیادوں پر داخلی مشاورت میں مصروف ہے تاکہ اس بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی طے کی جا سکے۔
علاقائی سلامتی
یہ سیاسی تقسیم صرف افغانستان کی داخلی سیاست تک محدود نہیں رہے گی۔ ہزارہ کمیونٹی، جو جغرافیائی اور نسلی اعتبار سے ایک اہم علاقائی اکائی ہے، کی سیاسی نمائندگی کا مسئلہ خطے کی استحکام پالیسیوں سے جڑا ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ طالبان حکومت اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کر اپنے “سیاسی توازن” کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، جبکہ یہ واقعہ پڑوسی ممالک کی افغان پالیسیوں پر نظرثانی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔