امریکہ کے معتبر نشریاتی ادارے سی این این نے ایک تحقیقی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کے انخلاء کے وقت چھوڑے گئے تین لاکھ سے زائد جدید امریکی ہتھیار اب پاکستان میں دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں میں ہیں اور ملک کے خلاف خونریز حملوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ذریعے برآمد کردہ امریکی مہر لگے ہتھیاروں کے ثبوت بھی پیش کیے گئے ہیں۔
سگار کی تصدیق
سی این این کی رپورٹ کے مطابق سابق افغان حکام کی معاونت کے لیے دیے گئے یہ ہتھیار اب تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے دہشت گرد گروہوں تک پہنچ چکے ہیں۔ رپورٹ میں امریکی محکمہ دفاع کے خصوصی انسپکٹر جنرل برائے افغانستان بحالی سگار کے سابق سربراہ جان سوپکو کے حوالے سے تصدیق کی گئی ہے کہ ’’افغانستان سے انخلاء کے وقت تقریباً تین لاکھ امریکی ہتھیار وہاں چھوڑے گئے تھے، جو اب پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔‘‘
ہتھیاروں کی تفصیلات
رپورٹ میں دہشت گردوں کے پاس موجود امریکی اسلحے کی مکمل فہرست دی گئی ہے، جس میں جدید ترین ایم-4 اور ایم-16 ایسالٹ رائفلز، ایم-249 مشین گنز، اسنائپر رائفلیں اور نائٹ ویژن ڈیوائسز شامل ہیں۔ سی این این کا کہنا ہے کہ ’’ان نائٹ ویژن آلات اور جدید اسلحے کی دستیابی نے دہشت گردوں کی کارروائی کی صلاحیت میں خوفناک اضافہ کر دیا ہے۔‘‘
عالمی خطرہ
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ ’’امریکی اسلحہ کی دہشت گردوں کو دستیابی افغانستان کے تمام پڑوسیوں کے لیے ایک بڑے خطرے کا باعث ہے۔‘‘ رپورٹ میں چین، ایران اور پاکستان کو لاحق ’’سنگین خطرے‘‘ کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ثبوت اور عملی چیلنجز
سی این این کی ٹیم کو پاکستانی سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں سے برآمد کردہ امریکی مہر لگے ہتھیار دکھائے۔ رپورٹ تسلیم کرتی ہے کہ ’’امریکی ہتھیاروں کی دستیابی کے باعث دہشت گردوں کے حملوں کی نوعیت اور شدت دونوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے‘‘ اور یہ ہتھیار ’’دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔‘‘
طالبان حکومت کا کردار
رپورٹ میں واضح طور پر جنوبی وزیرستان اور بلوچستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان میں ’’امریکی چھوڑا گیا جدید اسلحہ استعمال ہوا۔‘‘ یہ انکشاف اس اہم سوال کو جنم دیتا ہے کہ افغانستان میں موجودہ طالبان حکومت اپنی سرزمین سے ہمسایہ ممالک کے خلاف اس اسلحے کے استعمال کو روکنے میں کیوں مکمل ناکام ہے۔
بین الاقوامی ردعمل اور پاکستان کا مؤقف
یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب اگست 2025 میں امریکہ نے بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ پاکستان نے طویل عرصے سے عالمی برادری کو افغانستان سے اٹھنے والے دہشت گردی کے خطرات کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ سی این این کی اس رپورٹ سے پاکستان کے اس مؤقف کو بین الاقوامی سطح پر زبردست تقویت ملی ہے۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کے بعد امریکہ اور بین الاقوامی برادری پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ افغانستان میں چھوڑے گئے ہتھیاروں کے خاتمے اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو درپیش نئے چیلنجز سے نمٹنے میں عملی تعاون کریں۔