’گذشتہ سات دہائیوں میں دونوں ممالک کی سیاست، معیشت اور تمدن میں منفرد خطوط نمودار ہوئے ہیں۔ اب راج ناتھ جیسی باتوں سے سوائے غیر ضروری تلخی کے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔‘
اگر آپ تنقیدی گہرائی سے دیکھیں تو خود آئین سازی کا عمل بھی اسلامی نہیں البتہ مسلح افواج کا کردار غیراسلامی نہیں ہو سکتا کیونکہ فوج تو ملک و قوم کی سلامتی کی ضامن ہے۔
ایکس کے فیچر کے ذریعے انکشاف ہوا کہ متعدد وہ اکاؤنٹس جو بلوچ شناخت کے ساتھ پاکستان مخالف پروپیگنڈا چلا رہے تھے، دراصل بھارت میں موجود افراد آپریٹ کر رہے تھے۔
کابل کا بھارت کی طرف جھکاؤ اُن سیکیورٹی حقائق کو تبدیل نہیں کرسکتا جو پاکستان، ایران، چین، روس اور وسطی ایشیا کے ساتھ افغانستان کے تعلقات کی بنیاد ہیں۔
بھارت کی سفارتی پیش قدمی، پاکستان کی سرخ لکیریں، اور افغانستان کا متبادل راستوں کی تلاش کرنا؛ یہ سب خطے کے اس نازک لمحے کو تشکیل دے رہے ہیں جس پر جغرافیہ اور عسکری اقدمات کے اثرات گہرے ہیں۔
بھارت کی خوشنودی کیلئے افغانستان بھارت کے بیانیے کو اپنے بیانات اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے تقویت دے رہا ہے۔ متقی کے دورہ بھارت کے دوران کمشیر پر بیانات اور اس کے بعد جی ڈی آئی اکاوئنٹس کا بیانیہ اس کا حقیقی مظہر ہے۔