بین الاقوامی انسانی قانون کی روشنی میں طالبان حکام کی جانب سے کابل میں شہری مقامات کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے شواہد سامنے آئے ہیں، جو جنیوا کنونشنز اور روم اسٹیچوٹ کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

May 7, 2026

جنگ بندی سے متعلق امریکی تجاویز اب سکڑ کر ایک صفحے تک محدود ہو گئی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بقول، 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ، جسے امریکا نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا، اب ختم ہو چکی ہے۔

May 6, 2026

پاکستان میں افغان بیس بال ٹیم کا کیمپ قائم ہونے کی بنیادی وجہ یہاں دستیاب سہولیات کا ہونا ہے۔ خیبر پختونخوا کے کھلے میدانوں میں پاکستان کی قومی بیس بال ٹیم کے تقریباً 60 فیصد کھلاڑی بھی اسی اکیڈمی میں پریکٹس کرتے ہیں۔

May 6, 2026

بھارت جیسے بالائی علاقوں کے ملک کی جانب سے پانی کی فراہمی کو محدود کرنا اور اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ایک غیر قانونی اور خطرناک روایت کو جنم دے سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور نظام اس طرح کے یکطرفہ اقدامات کا متحمل نہیں ہو سکتا

May 6, 2026

چینی ٹی وی پر طیارے کے برآمدی ورژن جے-35 اے ای کی فوٹیج دکھائی گئی ہے جس میں جدید ترین الیکٹرو آپٹیکل ٹارگٹ سسٹم نصب ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، پاکستان اس دفاعی پیکیج کے تحت تقریباً 40 طیارے حاصل کر سکتا ہے۔

May 6, 2026

حکام نے بلوچستان کی برآمدی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے ماہی گیری، لائیو سٹاک، حلال گوشت، پھل، معدنیات اور فارماسیوٹیکل کے شعبوں کو نمایاں کیا اور گوادر پورٹ کو علاقائی تجارت کے لیے کلیدی گیٹ وے قرار دیا۔

May 6, 2026

دہلی کی گرمجوشی طالبان کے گرد جمے سرد حقائق نہیں پگھلا سکتی

بھارت کی سفارتی پیش قدمی، پاکستان کی سرخ لکیریں، اور افغانستان کا متبادل راستوں کی تلاش کرنا؛ یہ سب خطے کے اس نازک لمحے کو تشکیل دے رہے ہیں جس پر جغرافیہ اور عسکری اقدمات کے اثرات گہرے ہیں۔
دہلی کی گرمجوشی طالبان کے گرد جمے سرد حقائق نہیں پگھلا سکتی

یہ پیش قدمی سابقہ دورے کی توسیع ہے، جب گزشتہ ماہ افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی بھارت پہنچے تھے، اقوام متحدہ کی خصوصی اجازت کے ساتھ۔ اگرچہ بھارت اب بھی طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتا۔

November 20, 2025

افغانستان کے قائم مقام وزیرِ تجارت نورالدین عزیزی نئی دہلی پہنچ چکے ہیں؛ ایک ایسے دورے پر جسے بھارتی میڈیا پہلے ہی ’’تعلقات میں نئے موڑ‘‘ کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ عزیزی ایک اعلیٰ سطحی کاروباری وفد کے ہمراہ بھارت انٹرنیشنل ٹریڈ فیئر میں شریک ہیں اور بھارتی وزرائے خارجہ و تجارت سے براہِ راست ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ بظاہر ہدف یہ ہے کہ دوطرفہ تجارت کو 2 سے 3 ارب ڈالر تک لایا جائے اور چاہ بہار راہداری کو افغان برآمدات کے لیے فعال کیا جائے۔

لیکن اس دورے کا وقت محض اتفاق نہیں۔ چند روز قبل پاکستان نے افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں کے بعد اپنی سرحدیں بند کیں، جس سے افغان پھل برآمد کرنے والے تاجروں اور ٹرانسپورٹ گروپس کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ ایسے موقع پر نئی دہلی کا دورہ جب پاکستان کی گزرگاہیں بند ہیں افغان قیادت کی جانب سے ایک واضح سیاسی اشارہ ضرور ہے، مگر کیا یہ اشارہ پائیدار اقتصادی حل فراہم کر سکے گا؟ یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے۔

نئی دہلی کا نیا موڑ — ایک وقتی مفاد کی شراکت

یہ پیش قدمی سابقہ دورے کی توسیع ہے، جب گزشتہ ماہ افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی بھارت پہنچے تھے، اقوام متحدہ کی خصوصی اجازت کے ساتھ۔ اگرچہ بھارت اب بھی طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتا۔


دو مہینوں میں دو اعلیٰ سطحی دورے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں جانب سے ایک محتاط سفارتی ایڈجسٹمنٹ جاری ہے۔ کابل اس قوت کے ساتھ قربت بڑھا رہا ہے جسے وہ کبھی بدترین تنقید کا نشانہ بناتا تھا، جبکہ بھارت بظاہر خاموشی سے 2021 میں منقطع ہونے والا اپنا تزویراتی رشتہ بحال کر رہا ہے۔

بھارت کے لیے یہ معاملہ محض حقیقت پسندی ہے: کابل میں کسی حد تک موجودگی پاکستان کے لیے خطرے کا حساب مزید پیچیدہ بناتی ہے۔
اور کابل کے لیے، یہ بڑھتی ہوئی تنہائی میں ایک متبادل تلاش کرنے کی سعی ہے، خصوصاً اس وقت جب اس کے سب سے اہم پڑوسی کے ساتھ سرحدی راستے تنازعے کی زد میں ہیں۔

مگر وقتی فائدہ مفادات کی ہم آہنگی نہیں بناتا۔

جغرافیہ کا اٹل امتحان

طالبان اپنی تقریریں تبدیل کر سکتے ہیں، جغرافیہ نہیں۔

کاغذ پر چاہ بہار امید افزا نظر آتا ہے، مگر حقیقت میں ایران–بھارت راہداری مہنگی، موسمی، اور سیاسی طور پر غیر مستحکم ہے۔ چاہ بہار آج بھی کراچی اور طورخم کے روزمرہ حجم کے مقابلے میں انتہائی کم گزرگاہ فراہم کرتا ہے۔


وسطی ایشیا کے شمالی راستے سردیوں میں تقریباً بند ہو جاتے ہیں—اور چند ہفتوں میں یہ بندش مزید شدید ہو گی۔

وہی افغان تاجر جو کیمروں کے سامنے ’’تنوع‘‘ کی تعریف کرتے ہیں، نجی محفلوں میں ایک ہی بات کہتے ہیں کہ پاکستان اب بھی افغانستان کی تجارت کا تیز ترین، سستا ترین اور واحد قابلِ اعتماد راستہ ہے۔

نہ بھارت یہ حقیقت بدل سکتا ہے، نہ ایران۔
کابل بھی اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے، خواہ وہ نئی دہلی کی کیمروں کے سامنے اسے زبان پر نہ لاسکے۔

جہاں بیانیہ زمینی حقائق سے ٹکراتا ہے

کابل کی بھارت کے لیے بڑھتی گرمجوشی بیانات اور انٹرویوز میں تو پر اعتماد نظر آتی ہے، مگر جیسے ہی آپ میڈیا سے باہر نکل کر حقیقی معیشت کے کرداروں—تاجروں، ٹرکروں اور بروکروں—سے بات کریں، کہانی بدل جاتی ہے۔


کابل کا جو امیج وہ دنیا کو دکھانا چاہتا ہے، وہ خطے کے حقیقی معاشی و جغرافیائی تناظر سے میل نہیں کھاتا۔

گزشتہ برسوں میں طالبان نے بھارت کو ’’نظریاتی دشمن‘‘ قرار دیا، اسے ’’غیر اسلامی عناصر‘‘ کا حمایتی کہا، اور خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہرایا۔


آج اسی بھارت میں افغان وزراء کھڑے ہیں؛ گندم، سرمایہ کاری، تجارتی راستوں اور بین الاقوامی قبولیت کی آس میں۔

یہ نظریاتی یوٹرن حیران کن نہیں، ہر ناپائیدار حکومت اپنی ’’انتخابی یادداشت‘‘ رکھتی ہے۔
لیکن یہ اس حقیقت کو ضرور بے نقاب کرتا ہے کہ طالبان کا پرانا بغض معاشی دباؤ کے سامنے برقرار نہیں رہ سکا۔

یہ صرف بھارت تک محدود نہیں۔


طالبان اگرچہ زبان سے کہتے ہیں کہ ’’ہم تسلیم کیے جانے کے لیے نہیں بھاگتے‘‘، مگر ان کے سفارتی دورے کچھ اور ہی کہانی کہتے ہیں—دہلی، تہران، اور خطے کے مختلف دارالحکومتوں کے چکر دراصل ایک ایسے نظام کی تلاش ہے جو انہیں ڈی فیکٹو قبولیت دے، سرمایہ دے، اور ایسی نظر فراہم کرے جو اندرونی سطح پر ’’جواز‘‘ کے طور پر بیچی جا سکے۔

اسی دوران ’’مسلم بھائی چارے‘‘ کی جو زبان اندرونی سیاست میں استعمال ہوتی ہے، وہ پاکستان کے معاملے میں سوکھ جاتی ہے—اور بھارت کے معاملے میں نرم پڑ جاتی ہے۔ اس تضاد کو پورا خطہ نوٹ کر رہا ہے۔

جغرافیہ، سکیورٹی اور زمینی حقیقتیں — وہ دائرہ جو بدل نہیں سکتا

عزیزی کا نئی دہلی دورہ افغانستان کی سفارتی تنہائی کو وقتی طور پر کم ضرور کر سکتا ہے، مگر وہ دو بنیادی حقیقتیں نہیں بدل سکتا جو افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہیں:

1) جغرافیہ

افغان تجارت کے بڑے راستے پاکستان اور ایران سے گزرتے ہیں۔
چاہ بہار ہو یا وسطی ایشیا؛ وہ متبادل نہیں، ضمنی راستے ہیں۔

2) سکیورٹی

یہ راستے اُس وقت تک پائیدار نہیں ہو سکتے جب تک افغان سرزمین پر سرگرم گروہوں پر کنٹرول نہ ہو—وہی گروہ جن پر پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستیں مسلسل تحفظات رکھتی ہیں۔

بھارت فوٹو سیشن دے سکتا ہے، دعوتیں دے سکتا ہے، سرمایہ کاری کے وعدے دے سکتا ہے۔
لیکن راہداری، لاجسٹکس، حجم، اور علاقائی ہم آہنگی، یہ سب اسلام آباد اور تہران ہی فراہم کرتے ہیں۔
چین کی سی پیک کنیکٹیویٹی اور روس کی یوریشین ٹرانزٹ میں دلچسپی بھی اسی حقیقت کو مضبوط کرتی ہے کہ افغانستان کا معاشی مستقبل ’’پڑوسیوں‘‘ کے ساتھ مشترکہ ذمہ داری میں ہے، نہ کہ دور بیٹھے طاقتوں کے ہاتھوں۔

دہلی میں جتنی بھی تصویریں کھنچ جائیں، حقیقت نہیں بدلے گی:
افغانستان کی معیشت اس بات سے نہیں چلے گی کہ کون اس کے وزراء کا استقبال کرتا ہے بلکہ اس سے کہ افغان قیادت اپنے خطے میں استحکام بحال کرتی ہے یا نہیں، اور یہ عمل پاکستان سے شروع ہوتا ہے۔

دیکھیں: غزنی میں افغان طالبان کے فیصلوں سے افغان شہری بُری طرح متاثر

متعلقہ مضامین

بین الاقوامی انسانی قانون کی روشنی میں طالبان حکام کی جانب سے کابل میں شہری مقامات کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے شواہد سامنے آئے ہیں، جو جنیوا کنونشنز اور روم اسٹیچوٹ کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

May 7, 2026

جنگ بندی سے متعلق امریکی تجاویز اب سکڑ کر ایک صفحے تک محدود ہو گئی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بقول، 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ، جسے امریکا نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا، اب ختم ہو چکی ہے۔

May 6, 2026

پاکستان میں افغان بیس بال ٹیم کا کیمپ قائم ہونے کی بنیادی وجہ یہاں دستیاب سہولیات کا ہونا ہے۔ خیبر پختونخوا کے کھلے میدانوں میں پاکستان کی قومی بیس بال ٹیم کے تقریباً 60 فیصد کھلاڑی بھی اسی اکیڈمی میں پریکٹس کرتے ہیں۔

May 6, 2026

بھارت جیسے بالائی علاقوں کے ملک کی جانب سے پانی کی فراہمی کو محدود کرنا اور اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ایک غیر قانونی اور خطرناک روایت کو جنم دے سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور نظام اس طرح کے یکطرفہ اقدامات کا متحمل نہیں ہو سکتا

May 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *