Author: منیبہ راشد

اگرچہ قوم کا فیصلہ کل واضح ہو جائے گا، تاہم جو بھی حکومت اقتدار میں آئے گی اسے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان میں سب سے نمایاں بدعنوانی ہے، کیونکہ حسینہ دور میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات سامنے آئے۔ اس کے علاوہ بیروزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے، جس نے نوجوانوں میں شدید بے چینی پیدا کر رکھی ہے۔

February 10, 2026

90 کی دہائی میں یوم یکجہتی کشمیر مظلوم کشمیریوں کے ساتھ عملی یکجہتی کا دن تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ محض رسم بن گیا۔ 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات نے کشمیری حق خودارادیت اور بنیادی حقوق مزید محدود کر دیے، اور آج بھی کشمیری عالمی ضمیر سے انصاف کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں

February 6, 2026

اس عالمی منظرنامے میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان ابتدا ہی سے فلسطینی کاز کا اصولی اور اخلاقی حامی رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، اسرائیلی جارحیت کی مذمت، اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے۔ غزہ پیس آف بورڈ کے تناظر میں بھی پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محض علامتی حمایت پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس پلیٹ فارم کو بین الاقوامی قانون اور انصاف کے دائرے میں رکھنے کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کرے۔

January 28, 2026

موجودہ افغان حکومت کے لیے بھی یہ سمجھنا ناگزیر ہے کہ طاقت کے ذریعے مسلط کیا گیا اقتدار، جمہوریت، مفاہمت اور اجتماعی اتفاقِ رائے سے قائم ہونے والے امن کا نہ نعم البدل ہو سکتا ہے اور نہ ہی ایک مستحکم اور پائیدار افغانستان کے مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

December 21, 2025

اگر طالبان واقعی پشتونولی کے وارث بننا چاہتے ہیں، تو انہیں سب سے پہلے اس روایت کے بنیادی اصول پر واپس آنا ہوگا: اپنے مہمان کو اسلحہ نہ پکڑائیں، اپنے پڑوسی پر حملہ نہ کروائیں، اور اس مقدس کوڈ کو سیاسی ہتھیار بنانے کے بجائے اسے امن، بھائی چارے اور انصاف کا ذریعہ بنائیں۔

November 30, 2025

وہ طالبان جو دو دہائیوں تک بھارتی ریاست کو “ہندو سامراج”، “اسلام دشمن قوت” اور افغانستان میں “غیر شرعی اثر” کا ذریعہ قرار دیتے رہے، اب انہی کے دروازے پر تجارت، سرمایہ کاری، انسانی امداد اور سفارتی پہنچ کیلئے درخواستیں لے کر کھڑے ہیں۔

November 20, 2025

افغانستان جیسا خطہ جو دہائیوں سے غیر ملکی مداخلت ،جنگ و جدل  ،خانہ جنگی اور دیگر مسائل سے  دوچار ہے اس وقت ایک مرتبہ پھر غلط راستے پہ چل کے خود کو  آگ  میں جھونک رہا ہے۔

October 29, 2025

ان تمام حالات کے بعد سہیل آفریدی کو وزارت اعلی کا قلمدان سنبھالنے کے بعد تنظیمی اور صوبائی سطح پہ بے شمار چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

October 21, 2025

جہاں جسم کے زخم بھر رہے تھے وہیں روح چھلنی تھی اپنے پیاروں سے بچھڑ جانا ،لمحوں میں اپنی چھت سے محروم ہوجانا یہ وہ زخم تھے جنہیں بھرنے میں وقت لگتا یے

October 8, 2025

شائقین کرکٹ اس تمام صورتحال سے مایوس نظر آتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک پھر سے بھر پور کھیل پیش کریں۔

September 29, 2025