اگرچہ قوم کا فیصلہ کل واضح ہو جائے گا، تاہم جو بھی حکومت اقتدار میں آئے گی اسے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان میں سب سے نمایاں بدعنوانی ہے، کیونکہ حسینہ دور میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات سامنے آئے۔ اس کے علاوہ بیروزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے، جس نے نوجوانوں میں شدید بے چینی پیدا کر رکھی ہے۔
90 کی دہائی میں یوم یکجہتی کشمیر مظلوم کشمیریوں کے ساتھ عملی یکجہتی کا دن تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ محض رسم بن گیا۔ 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات نے کشمیری حق خودارادیت اور بنیادی حقوق مزید محدود کر دیے، اور آج بھی کشمیری عالمی ضمیر سے انصاف کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں
اس عالمی منظرنامے میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان ابتدا ہی سے فلسطینی کاز کا اصولی اور اخلاقی حامی رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، اسرائیلی جارحیت کی مذمت، اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے۔ غزہ پیس آف بورڈ کے تناظر میں بھی پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محض علامتی حمایت پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس پلیٹ فارم کو بین الاقوامی قانون اور انصاف کے دائرے میں رکھنے کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کرے۔
موجودہ افغان حکومت کے لیے بھی یہ سمجھنا ناگزیر ہے کہ طاقت کے ذریعے مسلط کیا گیا اقتدار، جمہوریت، مفاہمت اور اجتماعی اتفاقِ رائے سے قائم ہونے والے امن کا نہ نعم البدل ہو سکتا ہے اور نہ ہی ایک مستحکم اور پائیدار افغانستان کے مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
اگر طالبان واقعی پشتونولی کے وارث بننا چاہتے ہیں، تو انہیں سب سے پہلے اس روایت کے بنیادی اصول پر واپس آنا ہوگا: اپنے مہمان کو اسلحہ نہ پکڑائیں، اپنے پڑوسی پر حملہ نہ کروائیں، اور اس مقدس کوڈ کو سیاسی ہتھیار بنانے کے بجائے اسے امن، بھائی چارے اور انصاف کا ذریعہ بنائیں۔
وہ طالبان جو دو دہائیوں تک بھارتی ریاست کو “ہندو سامراج”، “اسلام دشمن قوت” اور افغانستان میں “غیر شرعی اثر” کا ذریعہ قرار دیتے رہے، اب انہی کے دروازے پر تجارت، سرمایہ کاری، انسانی امداد اور سفارتی پہنچ کیلئے درخواستیں لے کر کھڑے ہیں۔
افغانستان جیسا خطہ جو دہائیوں سے غیر ملکی مداخلت ،جنگ و جدل ،خانہ جنگی اور دیگر مسائل سے دوچار ہے اس وقت ایک مرتبہ پھر غلط راستے پہ چل کے خود کو آگ میں جھونک رہا ہے۔