"> طالبان کا نظم اور افغانستان کا غیر یقینی مستقبل - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

طالبان کا نظم اور افغانستان کا غیر یقینی مستقبل

موجودہ افغان حکومت کے لیے بھی یہ سمجھنا ناگزیر ہے کہ طاقت کے ذریعے مسلط کیا گیا اقتدار، جمہوریت، مفاہمت اور اجتماعی اتفاقِ رائے سے قائم ہونے والے امن کا نہ نعم البدل ہو سکتا ہے اور نہ ہی ایک مستحکم اور پائیدار افغانستان کے مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
طالبان کا نظم اور افغانستان کا غیر یقینی مستقبل

رپورٹ کا ایک نہایت تشویشناک پہلو افغانستان کی منشیات پر مبنی معیشت سے متعلق ہے۔ اگرچہ افیون کی پیداوار میں کمی آئی ہے، مگر منشیات کی معیشت ختم نہیں ہوئی بلکہ اس نے اپنی شکل بدل لی ہے۔

December 21, 2025

جنگوں کی سرزمین افغانستان ایک طویل عرصے تک غیر ملکی تسلط، داخلی انتشار اور مسلسل خونریزی کا شکار رہی۔ اس سرزمین نے آگ اور خون کی ہولی دیکھی، اپنی نسلوں کو مٹتے دیکھا اور اپنی اجتماعی یادداشت میں زخموں کے ان گنت باب محفوظ کیے۔ بالآخر ایک صبر آزما جدوجہد کے بعد افغان عوام کو ایک آزاد وطن میں سانس لینے کا موقع تو ملا، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ نوزائیدہ افغانستان آج بھی شدید اندرونی اور بیرونی خطرات و چیلنجز میں گھرا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ وقتاً فوقتاً افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

حال ہی میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی تازہ رپورٹ، جس کا تجزیہ ایچ ٹی این نے کیا ہے، افغانستان کی ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہے جو بظاہر نظم و نسق سے آراستہ دکھائی دیتی ہے، مگر اندر سے گہرے عدم استحکام کا شکار ہے۔ طالبان نے ملک پر انتظامی کنٹرول ضرور قائم کر لیا ہے، تاہم یہ کنٹرول قومی مفاہمت، سیاسی شمولیت اور پائیدار امن میں ڈھلنے میں ناکام رہا ہے۔ رپورٹ کے الفاظ میں افغانستان آج “گورننس” تو ہے، مگر “مفاہمت” نہیں۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ طالبان نے کھلی مسلح مزاحمت کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے، مرکز میں اپنی گرفت مضبوط کی ہے اور ملک کے طول و عرض میں کنٹرول قائم رکھا ہے۔ اسی طرح 2022 کے مقابلے میں پوست کی کاشت میں 95 فیصد سے زائد کمی بھی ایک قابلِ تصدیق حقیقت ہے۔ تاہم رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ محض طاقت کے ذریعے اختیارات پر گرفت استحکام کی ضمانت نہیں بن سکتی۔

رپورٹ کا ایک نہایت تشویشناک پہلو افغانستان کی منشیات پر مبنی معیشت سے متعلق ہے۔ اگرچہ افیون کی پیداوار میں کمی آئی ہے، مگر منشیات کی معیشت ختم نہیں ہوئی بلکہ اس نے اپنی شکل بدل لی ہے۔ میتھ ایمفیٹامین جیسی مصنوعی منشیات کی تیاری اور اسمگلنگ میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ منشیات کے نیٹ ورکس بدستور فعال ہیں، جو طالبان کے دعوؤں کو سطحی اور کمزور ثابت کرتے ہیں۔

اسی رپورٹ میں طالبان کے اس دعوے کو بھی ناقابلِ اعتبار قرار دیا گیا ہے کہ افغان سرزمین دہشت گرد تنظیموں سے پاک ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق افغانستان میں اب بھی بیس سے زائد دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں، جن میں داعش خراسان، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان اور جماعت انصاراللہ شامل ہیں۔ یہ تشخیص اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی باضابطہ رپورٹ کا حصہ ہے، نہ کہ کسی علاقائی ریاست کا مؤقف۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان سرحد پار دہشت گرد حملوں کا سب سے بڑا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔ ٹی ٹی پی کے ہزاروں جنگجو افغانستان کے مختلف صوبوں میں موجود ہیں اور 2025 کے دوران پاکستان میں سیکڑوں حملوں میں ملوث رہے، جس کے نتیجے میں علاقائی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوئے۔

یہ امر پاکستان کے لیے خاص طور پر اہم ہے کہ اقوامِ متحدہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ علاقائی استحکام محض بیانیوں، دعوؤں یا انکار سے ممکن نہیں۔ دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اور قابلِ تصدیق اقدامات، منشیات کے نیٹ ورکس کا حقیقی خاتمہ اور سرحد پار خطرات کا سدباب ناگزیر ہے۔ اسی تناظر میں اقوامِ متحدہ پاکستان کو ایک ایسے فریق کے طور پر پیش کرتی ہے جو افغانستان میں پیدا ہونے والے سیکیورٹی، معاشی اور انسانی بحرانوں سے براہِ راست اور شدید طور پر متاثر ہو رہا ہے، نہ کہ کسی جارح یا کردار ساز کے طور پر۔

رپورٹ ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ طاقت کے ذریعے نافذ کیا گیا نظم، پائیدار امن کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ جب تک افغانستان میں سیاسی شمولیت، انسانی حقوق کا احترام، دہشت گردی کا حقیقی خاتمہ اور علاقائی اعتماد سازی ممکن نہیں ہوتی، تب تک موجودہ استحکام عارضی ہی رہے گا۔

دنیا اور خود عالمی امن کے دعویداروں کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ کسی بھی ملک پر غیر ملکی مداخلت کے بعد اس کے زخم مندمل ہونے میں دہائیاں لگتی ہیں۔ اسی طرح موجودہ افغان حکومت کے لیے بھی یہ سمجھنا ناگزیر ہے کہ طاقت کے ذریعے مسلط کیا گیا اقتدار، جمہوریت، مفاہمت اور اجتماعی اتفاقِ رائے سے قائم ہونے والے امن کا نہ نعم البدل ہو سکتا ہے اور نہ ہی ایک مستحکم اور پائیدار افغانستان کے مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

دیکھیں: خیبرپختونخوا کے 42 افغان مہاجر کیمپس مستقل بند، 3 لاکھ سے زائد کی وطن واپسی شروع

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *