پاک افغان استنبول مذاکرات کا تیسرے دور 13 گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہوا۔ سرحدی جھڑپوں کے باوجود فریقین نے مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا
افغان انٹیلیجنس نے ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو بظاہر انتظامی ردوبدل کے نام پر مقامی آبادیوں میں آباد کرنا شروع کر دیا ہے۔ جو سراسر استنبول مذاکرات کے معاہدے کے متضاد ہے
استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آج سے شروع ہو رہا ہے۔ مذاکرات میں سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے، دہشت گروہ، جنگ بندی اور دوطرفہ تعلقات پر غور کیا جائے گا
جوں جوں علاقائی سفارتی شطرنج کی بساط بدل رہی ہے، اسلام آباد اپنی عسکری اور اخلاقی طاقت کے ساتھ اس ابھرتی ہوئی دشمنی کا سامنا کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتا ہے۔