پاکستان پر پے در پے حملوں کا منہ توڑ جواب؛ پاکستانی فورسز کی جوابی فضائی کارروائی میں ہلاک 46 شرپسندوں کی کابل میں نمازِ جنازہ ادا۔ اسلام آباد نے ملکی دفاع کے لیے ‘زیرو ٹالرنس’ پالیسی کا اعادہ کر دیا
پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی؛ اسلام آباد کے دباؤ پر اسرائیل نے ایرانی وزیرِ خارجہ اور اسپیکر پارلیمنٹ کو ہٹ لسٹ سے نکال دیا۔ رائٹرز اور وال اسٹریٹ جرنل نے مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے کلیدی ثالثی کردار کی تصدیق کر دی
وزیراعظم شہباز شریف اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ؛ ملائیشیا نے مشرقِ وسطیٰ میں امن اور امریکہ ایران مذاکرات کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی بھرپور حمایت کر دی
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں مشرقِ وسطیٰ کے 13 امریکی فوجی اڈوں کی تباہی کا انکشاف کیا گیا ہے۔ ایرانی حملوں کے بعد امریکی فوج ہوٹلوں سے کام کرنے پر مجبور ہو گئی ہے، جبکہ کویت میں واقع اڈے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی ایران میں بغاوت کرانے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن اب فوجی تصادم کے بجائے اسلام آباد کے ذریعے سفارتی حل کو ترجیح دے رہا ہے
تاجک صدر امام علی رحمان دو روزہ سرکاری دورے پر ازبکستان پہنچ رہے ہیں جہاں وہ سپریم انٹر اسٹیٹ کونسل کے پہلے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اس دورے کا مقصد توانائی، پانی کی حفاظت اور تجارتی شراکت داری سمیت اسٹریٹجک اتحاد کو مزید مضبوط بنانا ہے
سال 2026 کی عالمی کیو ایس رینکنگ میں پاکستان کی 35 جامعات کی شمولیت نے ملکی تعلیمی معیار پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔ نسٹ اور قائد اعظم یونیورسٹی نے اپنے اپنے شعبوں میں عالمی برتری برقرار رکھی ہے جبکہ زرعی جامعہ فیصل آباد ٹاپ 200 میں شامل ہو گئی ہے
ایران کے خلیجی ممالک پر تابڑ توڑ حملوں سے یہ قلعی کھل گئی ہے کہ امریکا کسی ملک کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ وہ خلیجی ممالک جنہوں نے اپنے دفاع کی ساری ذمہ داری بھاری ہرجانے پر امریکا کے حوالے کی تھی، اس وقت ایک دوسرے کا منہ تک رہے ہیں۔
یورپی فورمز پر جی ایس پی پلس کے خلاف فتنہ الہندوستان کے گمراہ کن بیانیے کا پردہ چاک کر دیا گیا۔ ماہرین نے انسانی حقوق کے نام پر کی جانے والی اس لابنگ کو لاکھوں پاکستانی محنت کشوں کے معاشی استحصال کی کوشش اور دہشت گردی کی پردہ پوشی قرار دیا ہے
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کی جانب سے بھجوائے گئے 15 نکات کا ذکر کرتے ہوئے تصدیق کی کہ امریکہ نے ’دوست ممالک‘ کے ذریعے ایران کو پیغامات بھجوائے ہیں، لیکن پیغامات کا یہ تبادلہ مذاکرات یا کوئی گفت و شنید نہیں ہے۔