مذہبی علما کو نظامِ شریعت کے محافظ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ مجاہدین اور سرکاری عہدیداران کو علما سے مشاورت کرنی چاہیے اور ان کے فتووں اور رہنمائی پر عمل کرنا لازم ہے۔
سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق، عوامی ایکشن کمیٹی کا یہ مؤقف براہِ راست بھارتی بیانیے کو تقویت دیتا ہے، جو برسوں سے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ “کشمیر تقسیم ہو چکا ہے”۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو سخت الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اتوار کی شام تک جواب نہ دیا گیا تو غزہ پر ایسا قیامت خیز حملہ کیا جائے گا جو تاریخ میں پہلے کبھی نہ دیکھا گیا ہو۔
ایسے میں عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کے پاس ایک سنہری موقع تھا کہ وہ اپنی عوامی حمایت کو مثبت سمت میں لے جاتی اور آزاد کشمیر کے عوام کے حقیقی نمائندے بن کر ابھرتی، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان کے فیصلے اور بیانات اس حقیقت کے برعکس ہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کی سیاسی، سماجی، فلاحی اور مذہبی شخصیات نے بھی اسرائیلی جارحیت کی پرزور مذمت کی اور گرفتار افراد کی غیر مشروط رہائی کیلئے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔