ذرائع کے مطابق اسی تناظر میں امریکہ نے اعلیٰ سطحی مذاکراتی ٹیم پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جس کی قیادت نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور کشنر بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔
پاکستان نے امریکہ اور ایران کو 10 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے، جہاں 15 دن تک بات چیت جاری رہنے کا امکان ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد جاری کشیدگی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنا اور خطے میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
افغان ترجمان کی جانب سے پیش کیا گیا سویلین ہلاکتوں کا بیانیہ دراصل ان کارروائیوں کو متنازع بنانے اور عالمی ہمدردی حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس کو بند کرنے یا محدود کرنے کی دھمکی عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں زیادہ تر وہی نکات دہرائے جو وہ گزشتہ دنوں اپنے بیانات اور سوشل میڈیا پیغامات میں پیش کر چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود پالیسی کی سطح پر واضح سمت کا فقدان نمایاں رہا۔
جرگہ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں سیاسی رہنما، سینیٹرز، ارکان اسمبلی، علما، قبائلی عمائدین اور میڈیا نمائندگان شامل تھے، جنہوں نے متفقہ طور پر امن، استحکام اور باہمی احترام کے فروغ پر زور دیا۔
ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں، جہاں جغرافیائی کشیدگی اور سپلائی چین کے مسائل بڑھ رہے ہیں، پی این ایس سی جیسے ادارے پاکستان کے لیے ایک اسٹریٹجک اثاثہ بن چکے ہیں۔
اس ممکنہ کارروائی کے ذریعے بھارت بین الاقوامی سطح پر پاکستان مخالف بیانیہ تشکیل دینا چاہتا ہے اور سفارتی محاذ پر درپیش چیلنجز سے توجہ ہٹانا اس کا ایک اہم ہدف ہو سکتا ہے۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ناگزیر ہے، اور پاکستان وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں خطے اور عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہا، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے، علاقائی امن و استحکام کے فروغ اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔