"> پاکستان کی توانائی سکیورٹی میں پی این ایس سی کا ابھرتا کردار، حکومتی توسیعی منصوبہ سامنے آگیا - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پاکستان کی توانائی سکیورٹی میں پی این ایس سی کا ابھرتا کردار، حکومتی توسیعی منصوبہ سامنے آگیا

ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں، جہاں جغرافیائی کشیدگی اور سپلائی چین کے مسائل بڑھ رہے ہیں، پی این ایس سی جیسے ادارے پاکستان کے لیے ایک اسٹریٹجک اثاثہ بن چکے ہیں۔
پاکستان کی توانائی سکیورٹی میں پی این ایس سی کا ابھرتا کردار، حکومتی توسیعی منصوبہ سامنے آگیا

پاکستان کی تقریباً 89 فیصد بحری تجارت اب بھی غیر ملکی شپنگ کمپنیوں کے ذریعے انجام دی جاتی ہے، جس کے باعث سالانہ تقریباً 6 ارب ڈالر فریٹ چارجز کی مد میں ادا کیے جاتے ہیں۔

March 31, 2026

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی بحری راستوں پر غیر یقینی صورتحال کے دوران پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ایک کلیدی قومی ادارے کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے، جو ملک کی توانائی ضروریات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ معیشت پر دباؤ کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

آبنائے ہرمز اور سپلائی سکیورٹی کا چیلنج


آبنائے ہرمز میں سکیورٹی خدشات اور انشورنس اخراجات میں اضافے کے باعث متعدد غیر ملکی آئل ٹینکرز نے اس روٹ پر آپریشنز محدود کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی۔

ایسے میں پی این ایس سی نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کے لیے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کو جاری رکھا، جو توانائی سکیورٹی کے حوالے سے نہایت اہم پیش رفت ہے۔

مالی کارکردگی اور آپریشنل صلاحیت


پی این ایس سی ملک کے چند منافع بخش سرکاری اداروں میں شامل ہے، جس نے گزشتہ مالی سال میں 10 ارب روپے سے زائد منافع حاصل کیا۔ ادارہ اس وقت 12 جہازوں پر مشتمل بیڑا چلا رہا ہے، جن میں 7 آئل ٹینکرز شامل ہیں، اور یہ پاکستان کے مجموعی کمرشل کارگو کا تقریباً 11 فیصد ہینڈل کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ کارکردگی ایک ایسے وقت میں مزید اہم ہو جاتی ہے جب بیشتر سرکاری ادارے خسارے کا شکار ہیں۔

فریٹ بل اور زرمبادلہ پر دباؤ


پاکستان کی تقریباً 89 فیصد بحری تجارت اب بھی غیر ملکی شپنگ کمپنیوں کے ذریعے انجام دی جاتی ہے، جس کے باعث سالانہ تقریباً 6 ارب ڈالر فریٹ چارجز کی مد میں ادا کیے جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پی این ایس سی کی صلاحیت بڑھائی جائے تو اس بھاری زرمبادلہ کے اخراج میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے اور معاشی استحکام کو تقویت دی جا سکتی ہے۔

نجکاری سے اخراج اور حکومتی حکمت عملی


حکومت نے پی این ایس سی کی اسٹریٹجک اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے نجکاری کی فہرست سے خارج کر دیا ہے، جو ایک اہم اور دور اندیش فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس وقت حکومت کے پاس ادارے کے 87.56 فیصد شیئرز ہیں جبکہ باقی حصص عوام اور پی این ایس سی ایمپلائیز ایمپاورمنٹ ٹرسٹ کے پاس ہیں، جو اس ادارے کو قومی مفاد کے تناظر میں برقرار رکھنے کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔

بیڑے کی توسیع اور مستقبل کا وژن


حکومت نے آئندہ پانچ سالوں میں پی این ایس سی کے بیڑے کو 12 سے بڑھا کر 54 جہازوں تک لے جانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس توسیع سے نہ صرف پاکستان کے فریٹ بل میں کمی آئے گی بلکہ توانائی اور دیگر اہم اشیاء کی محفوظ اور بروقت ترسیل کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا، جبکہ میری ٹائم سیکٹر میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

قومی معیشت اور سکیورٹی میں کلیدی حیثیت


ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں، جہاں جغرافیائی کشیدگی اور سپلائی چین کے مسائل بڑھ رہے ہیں، پی این ایس سی جیسے ادارے پاکستان کے لیے ایک اسٹریٹجک اثاثہ بن چکے ہیں۔ مؤثر پالیسی سازی اور بروقت سرمایہ کاری کے ذریعے اسے نہ صرف مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے بلکہ پاکستان کو خطے میں ایک مضبوط بحری تجارتی قوت کے طور پر بھی ابھارا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *