نوجوانی میں وہ ایران عراق جنگ کے دوران مختصر مدت کے لیے فوجی خدمات بھی انجام دے چکے ہیں۔ بعد میں انہوں نے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی روابط استوار کیے اور طویل عرصے تک اپنے والد کے قریبی حلقے میں ایک بااثر شخصیت کے طور پر کام کرتے رہے۔
جب رسول اکرم ﷺ اپنے تین سو تیرہ صحابہ کے ساتھ اس مقام پر پہنچے تو یہ محض ایک فوجی مقابلہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی آزمائش تھی جس میں ایک طرف ایمان سے سرشار مگر وسائل کے لحاظ سے کمزور مسلمان تھے اور دوسری طرف قریشِ مکہ کا طاقتور لشکر تھا جس کی تعداد تقریباً ایک ہزار کے قریب تھی۔ مگر اس ایک روزہ معرکے نے تاریخ کا رخ ہمیشہ کیلئے بدل دیا اور ایمان اور نظریے کی طاقت اسلحے و افرادی قوت سے کہیں معتبر ٹھہری۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان اس وقت غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے اور پڑوسی خطوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کے اثرات براہ راست پاکستان سمیت پورے خطے پر پڑ رہے ہیں۔
مجموعی طور پر ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال جنوبی اور وسطی ایشیا کی سیاست کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر علاقائی قوتیں اپنے اختلافات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام پر طویل عرصے تک مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے پیغام میں کہا کہ “یہ عظیم جرم کا جواب دیا جائے گا” اور ایران اپنی پوری طاقت اور عزم کے ساتھ ذمہ داران کو پچھتاوے پر مجبور کرے گا۔ ان کے مطابق خامنہ ای نے 37 برس حکمت و بصیرت سے قیادت کی اور ان کی ہلاکت کے بعد ملک ایک مشکل دور سے گزرے گا۔
رائٹرز نے اسرائیلی حکام کی جانب سے اس دعوے کو رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای بھی اب اس دنیا میں نہیں رہے اور ان کی لاش بھی مل گئی ہے۔ ایرانی حکام نے اس خبر پر کہا ہے کہ وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اعلیٰ قیادت کے حوالے سے کسی خبر کی تصدیق کر سکیں۔
اسی طرح ایک تصویر جسے بعض افغان میڈیا پلیٹ فارمز نے پاکستانی طیارے کا ملبہ قرار دیا، درحقیقت 2021 میں ترکی میں پیش آنے والے ایک روسی فائر فائٹنگ طیارے کے حادثے کی ہے۔ اس حادثے میں روسی ساختہ بی ای-200 طیارہ جنوبی ترکی میں گر کر تباہ ہوا تھا اور اس کی تصاویر بین الاقوامی میڈیا بشمول سی این این نے شائع کی تھیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق تہران کے علاقوں یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوری ایریا میں کئی میزائل گرے ہیں۔ مغربی تہران میں موجود نمائندوں نے دو زور دار دھماکوں کی آواز سننے کی تصدیق کی ہے، جبکہ شہر کے وسطی علاقوں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
طالبان وزارتِ دفاع سے منسوب بیان کے مطابق پکتیا، نورستان، خوست اور ننگرہار سمیت سرحدی علاقوں میں پاکستانی فورسز کے ساتھ شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائیاں مبینہ طور پر “بار بار سرحدی خلاف ورزیوں” کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔