بھارت میں اپوزیشن جماعتوں اور بائیں بازو کی قیادت نے مودی کی اسرائیل حمایت پر تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکت کے باوجود اسرائیل کی غیر مشروط حمایت بھارت کی تاریخی فلسطین نواز پالیسی سے انحراف ہے۔
ذرائع کے مطابق فوری جوابی کارروائی میں مبینہ طور پر افغان پوسٹوں کو “خاموش” کرا دیا گیا۔ تاہم جانی نقصان کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں اور آزاد ذرائع سے ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے ’شہری آبادی پر بمباری‘ کے الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور ان کی شفاف اور قابلِ تصدیق تحقیقات ہونی چاہیے۔ تاہم سرحد پار انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کو محض جارحیت قرار دینا خطے میں موجود خطرات کے مکمل تناظر کو نظرانداز کرنا ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق پاکستان نے جوابی اقدام کے طور پر پاکستان-افغان سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج اور اس سے وابستہ گروہوں اور داعش کے سات دہشت گرد کیمپس اور ٹھکانوں کو نہایت درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر آٹھ مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کا دائرہ صوبہ خوست، پکتیا، پکتیکا اور ننگرہار تک پھیلا ہوا بتایا جا رہا ہے۔ اسی دوران ارگون (پکتیا) میں بھی تازہ حملے کی اطلاع ملی ہے۔
دورے کے موقع پر وزیرِاعظم نے بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ، آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف، ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو سے غیر رسمی ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سیاسی و قانونی ماہرین کے مطابق جدید برطانوی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سینئر شاہی شخصیت کو اس نوعیت کے شبہے میں باقاعدہ گرفتار کیا گیا ہو۔ بادشاہ کنگ چارلس تھری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس خبر پر گہری تشویش رکھتے ہیں اور معاملہ اب مکمل، منصفانہ اور قانونی طریقہ کار کے تحت آگے بڑھے گا۔
نقاب پوش وردی میں ملبوس افراد کی جانب سے تحائف دیتے ہوئے مناظر جاری کرنا اور اس عمل کو نمایاں انداز میں پیش کرنا، بعض مبصرین کے نزدیک القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کے پروپیگنڈا طریقۂ کار کی یاد دلاتا ہے، جہاں قیدیوں کے تبادلے کو علامتی طاقت کے مظاہرے کے طور پر دکھایا جاتا رہا ہے۔
ملاقات کے دوران شرکاء نے بھی خطے کی مجموعی صورتحال اور پاکستان کے کردار پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ سابق وزیرِ اعظم نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو قومی یکجہتی اور مثبت بیانیے کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ مسئلہ صرف نسلی تناسب کا نہیں بلکہ ریاستی شمولیت اور سیاسی جواز کا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں دہائیوں سے جنگ، بیرونی مداخلت اور داخلی تقسیم رہی ہو، وہاں طاقت کا ارتکاز مزید بے چینی کو جنم دے سکتا ہے۔ خاص طور پر ہزارہ برادری، جو مذہبی اقلیت بھی ہے، خود کو دوہری محرومی کا شکار محسوس کرتی ہے۔