"> انوار الحق کاکڑ کا افغان صورتحال پر اظہارِ خیال
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ڈنمارک میں بلوچ برادری سے ملاقات: انوار الحق کاکڑ کا افغان صورتحال پر اظہارِ خیال

ملاقات کے دوران شرکاء نے بھی خطے کی مجموعی صورتحال اور پاکستان کے کردار پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ سابق وزیرِ اعظم نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو قومی یکجہتی اور مثبت بیانیے کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈنمارک میں بلوچ برادری سے ملاقات: انوار الحق کاکڑ کا افغان صورتحال پر اظہارِ خیال

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ افغانستان میں بیرونی طاقتوں کی وسیع مالی اور عسکری معاونت کے باوجود وہاں کا نظام تیزی سے منہدم ہو گیا، جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ پائیدار استحکام بیرونی سہاروں سے نہیں بلکہ مقامی بنیادوں پر استوار کیا جاتا ہے

February 16, 2026

پاکستان کے سابق نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے ڈنمارک میں مقیم بلوچ برادری سے ملاقات کے دوران افغانستان کی صورتحال اور خطے میں استحکام سے متعلق اہم نکات پر روشنی ڈالی۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ افغانستان میں بیرونی طاقتوں کی وسیع مالی اور عسکری معاونت کے باوجود وہاں کا نظام تیزی سے منہدم ہو گیا، جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ پائیدار استحکام بیرونی سہاروں سے نہیں بلکہ مقامی بنیادوں پر استوار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور طویل المدتی غیر ملکی موجودگی کے باوجود افغان ریاستی ڈھانچہ دیرپا ثابت نہ ہو سکا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کیا اور امن و استحکام کے لیے عملی کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی صورتحال نے پاکستان کے اس مؤقف کو تقویت دی ہے کہ مسائل کا حل مقامی حقائق اور زمینی حالات کے مطابق تلاش کیا جانا چاہیے، نہ کہ بیرونی مداخلت کے ذریعے مسلط کیا جائے۔

سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں کیں اور شدید دباؤ کے باوجود اپنی ریاستی ساخت اور ادارہ جاتی استحکام کو برقرار رکھا۔ انہوں نے مسلح افواج اور ریاستی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور قومی عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہی استقامت پاکستان کی مضبوطی کی بنیاد ہے۔

انوار الحق کاکڑ کے مطابق افغان تجربہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دیرپا امن کے لیے مقامی شراکت داری، سیاسی مفاہمت اور داخلی خود انحصاری ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک ذمہ دار، حقیقت پسند اور مستحکم ریاست کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جو خطے میں امن، استحکام اور تعمیری تعاون کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے۔

ملاقات کے دوران شرکاء نے بھی خطے کی مجموعی صورتحال اور پاکستان کے کردار پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ سابق وزیرِ اعظم نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو قومی یکجہتی اور مثبت بیانیے کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔

دیکھیے: اے ایف ایف کا مسلسل تیسرا حملہ، 4 طالبان ہلاک و زخمی

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *