عالمی جنوب اور برکس کے کئی اہم ممالک سعودی عرب کی حمایت کر رہے ہیں۔ اگر بھارت اسرائیل اور یو اے ای کے محور کی جانب جھکاؤ دکھاتا ہے تو اس سے عالمی جنوب میں قیادت کے اس کے دعوے کمزور پڑ سکتے ہیں۔
یومِ پیغامِ پاکستان کے حوالے سے اظہارِ خیال کرنے والوں میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، مفتی عبد الرحیم، پیر نقیب الرحمٰن، علامہ عارف واحدی، علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مفتی یوسف، علامہ محمد حسین اکبر، مولانا زاہد منصور، مولانا عادل عطاری، ڈاکٹر پیر آصف میر، مفتی کریم خان اور دیگر ممتاز علما شامل تھے۔
دوسرا گروہ کابل میں موجود طاقتور طالبان وزرا پر مشتمل ہے، جو خود کو زیادہ عملیت پسند قرار دیتا ہے۔ اس گروہ میں نائب وزیر اعظم عبدالغنی برادر، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد شامل ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے آخر میں کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کی بحالی کے لیے مثبت اشاروں اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو یقین ہے کہ اگر دہشت گردی کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کیا جائے تو پاک افغان تعلقات ایک نئے اور بہتر دور میں داخل ہو سکتے ہیں۔
دفتر خارجہ کی بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور امن، علاقائی استحکام، خودمختاری کا احترام اور مظلوم اقوام کی حمایت ہے۔ پاکستان خلیجی دنیا، مسلم ممالک، ہمسایہ ریاستوں اور عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن، ذمہ دار اور اصولی سفارت کاری جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
برطانوی اور امریکی رپورٹس کے مطابق ابو زبیدہ کو دورانِ حراست 83 مرتبہ واٹر بورڈنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں نیند سے محروم رکھا گیا، شدید مار پیٹ کی گئی، اور 11 دن تک تابوت نما تنگ ڈبے میں بند رکھا گیا۔ سی آئی اے کی حراست کے دوران ان کی ایک آنکھ بھی ضائع ہو گئی۔
ادھر ایران میں انٹرنیٹ بدستور بند ہے۔ عالمی ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کو 100 گھنٹوں سے زائد ہو چکے ہیں، جس کے باعث معلومات کی ترسیل شدید متاثر ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ اقدام احتجاج کو دبانے اور عوامی رابطے محدود کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
ادھر زمینی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی حمایت یافتہ فورسز عدن کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں، جبکہ سعودی عرب نے الزبیدی کے آبائی صوبے الضالع پر کم از کم 15 فضائی حملے کیے ہیں۔ ایس ٹی سی کے مطابق ان حملوں میں دو شہری جاں بحق اور 14 زخمی ہوئے۔ سعودی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملے ’’پیشگی دفاعی کارروائیاں‘‘ تھیں جن کا مقصد کشیدگی بڑھانے کی کوششوں کو ناکام بنانا تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے ہیں،ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں زیادہ دہشت گردی کی وجہ وہاں دہشت گردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے۔
ہیومن رائٹس ایکٹیویسٹ نیوز ایجنسی (ایچ آر اے این اے) کے مطابق جاری مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات میں اب تک کم از کم 35 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایک ہفتے سے زائد عرصے میں 1200 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ایچ آر اے این اے کا کہنا ہے کہ ان احتجاجی سرگرمیوں میں جامعات کے طلبہ بھی بڑی تعداد میں شریک ہیں اور مختلف شہروں میں طلبہ کی جانب سے الگ الگ مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔