بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کے 15 سالہ دورِ اقتدار کے خاتمے اور عوامی انقلاب کے بعد پہلے تاریخی عام انتخابات کے لیے آج پولنگ ہو رہی ہے۔ ملک بھر میں 12 کروڑ 90 لاکھ سے زائد ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، جن میں 44 فیصد تعداد نوجوانوں کی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان انتخابات کے نتائج پر پاکستان اور بھارت دونوں کی گہری نگاہ ہے کیونکہ خطے کے مستقبل کے مفادات اسی دن سے وابستہ ہیں۔
تاریخی انتخاب
بنگلہ دیشی پارلیمنٹ کی 299 نشستوں پر ووٹنگ کا عمل جاری ہے، جبکہ ایک نشست پر امیدوار کی وفات کے باعث انتخاب ملتوی کیا گیا ہے۔ ان انتخابات کو ملک کی حالیہ تاریخ کے اہم ترین معرکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں 15 سالہ سیاسی جمود کے بعد عوام کو اپنی مرضی کی حکومت منتخب کرنے کا موقع ملا ہے۔ سو فیصد شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن نے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے ہیں تاکہ ہر شہری بغیر کسی خوف کے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکے۔
سیکیورٹی انتظامات
الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں شفافیت اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج اور پولیس سمیت 3 لاکھ سے زائد اہلکار تعینات کیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کو ہر صورت منصفانہ بنایا جائے گا تاکہ جولائی کے انقلاب کے ثمرات عوام تک پہنچ سکیں۔ ای ڈی (ایگزیکٹو ڈائریکٹوز) کے تحت تمام پولنگ اسٹیشنز پر کڑی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی عمل میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو روکا جا سکے۔
سیاسی اپیلیں
جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمن نے نوجوانوں کو ‘انقلاب کا ہیرو’ قرار دیتے ہوئے بھرپور ووٹنگ کی اپیل کی ہے، جبکہ بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان نے علمائے کرام کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ نوجوانوں کا غیر معمولی ٹرن آؤٹ ملک میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
دیکھیے: ڈھاکہ کی دہلیز پر نیا عہد: بنگلہ دیش کے تاریخی انتخابات